The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی پہلی کھانے والی کوروناویکسین، سائنس دانوں کا بڑا اعلان

ماسکو: روسی ماہرین نے دنیا کی پہلی کھانے والی کورونا ویکسین بنانے کا اعلان کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سرجیکل سوئیوں کے خوف کے باعث ویکسین نہ لگوانے والے اب کوروناویکسین کھا سکیں گے، روسی سائنس دانوں نے کھانے والی ویکسین کے ٹرائلز شروع کردیے۔

رپورٹ کے مطابق روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے سائنسدانوں کی ٹیم کورونا وائرس کے خلاف ایک ORAL ویکسین کی حتمی تیاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ویکسین کے بننے کے بعد ٹرائلز کا آغاز ہوچکا ہے۔ روسی انسٹی ٹیوٹ برائے تجرباتی میڈیسن دنیا کی پہلی کھانے والی کورونا وائرس ویکسین کے کلینکل ٹرائلز کررہا ہے۔

روسی سائنس دانوں کا دنیا کی پہلی کھانے والی کورونا ویکسین بنانے کا اعلان

یہ ویکسین بوتل سے با آسانی کھایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرنجوں سے لوگوں کو ویکسین کے انجیکشن لگانے میں محکمہ صحت کے افراد کو کافی وقت اور افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کی جانب سے خیال کیا جارہا ہے کہ یہ فارمولا(کھانے والی کوروناویکسین) لاکھوں افراد کو کورونا وائرس کے خلاف ویکسین دینے کے عمل کو تیز کرسکتا ہے۔

روسی اکیڈمی آف سائنسز کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ کھانے میں دہی کے ذائقے کی طرح کی کورونا ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کیے جارہے ہیں، جو رواں سال ہی حتمی طور پر تیار ہوجائے گی، اس ویکسین کی تیاری میں لاگت 220 ملین روبل ($ 2.9 ملین) رکھی گئی ہے۔ ویکسین کا ذائقہ روسی ڈیری ڈرنک جسے ryazhenka کہا جاتا ہے کی طرح کا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں