The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں تین سکھ خواتین کو چڑیل قرار دیکر بدترین تشدد

نئی دہلی : بھارتی سرزمین مسلمانوں کے بعد سکھ برادری پر بھی تنگ ہونے لگی، بھارتی شہریوں نے تین سکھ خواتین کو چڑیل قرار دیکر بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا ہے جہاں لوگوں نے تین سکھ خواتین کو چڑیل قرار دیتے ہوئے انہیں نیم برہنہ حالت میں پورے میں گاؤں میں گھمایا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

بھارت میں انسانیت کی تذلیل تو معمول بن چکی ہے اور اب وہاں خواتین، بوڑھوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں رہا، مذکورہ خواتین کو نیم برہنہ حالت میں گاؤں کا چکر لگوانے کے بعد فضلہ تک کھانے پر مجبور کیا گیا۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل سکھ گلوکار رنجیت باوا کے ریلیز ہونے والے نئے گانے کو بنیاد بناکر ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا، ہندو دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ ان کے گانے سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

لڑکے سے بات کرنے کے شبے میں کم عمر لڑکی پر تشدد، بال کاٹ دیے گئے

یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں ایسا بھی نصف نازک پر وحشیانہ تشدد کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے علی راج پور میں ایک نو عمر لڑکی پر، ایک لڑکے سے فون پر بات کرنے کے شبے میں تشدد کیا گیا تھا جبکہ اس کے بال بھی کاٹ دیے گئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں