The news is by your side.

Advertisement

چین کا آسمانی محل پیر کے روززمین پر گرے گا

سنہ 2011 میں خلا میں بھیجا جانے والا خلائی مرکز جسے آسمانی محل بھی کہا جاتا ہے آئندہ 24 گھنٹوں میں کسی بھی وقت زمیں بوس ہوجائے گا‘ سورج کے نظام الاوقات میں تبدیلی کے سبب اس کے زمین پر گرنے کا وقت اور مقام کا تعین نہیں ہو پارہا ہے۔

یورپی خلائی مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کا خلائی اسٹیشن تیانگ گانگ اول ‘ 2 اپریل کو آسمان سے افریقہ کے کسی مقام پر آ کر گرے گا ‘ تاہم اس کے مقام کا تعین تاحال ممکن نہیں ہوسکا ہے‘ کہا جارہا ہے کہ اس کے گرنے کے وقت میں ایک منٹ کی تبدیلی بھی اسے اس کے گرنے کے مقام سے کئی سو میل کے فاصلے پر لے جاسکتی ہے اور اسی سبب کسی حتمی مقام کو اس کے گرنے کا مقام قرار نہیں دیا جارہا ہے۔ تیانگ گانگ نامی چینی لفظ کا مطلب آسمان میں معلق محل ہے‘ جس کی وجہ سے اس کو آسمانی یا خلائی محل کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

آسمانی محل کیا ہے اور کیوں گر رہا ہے؟ 

یاد رہے کہ اس سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ31 مارچ کو گرے گا ‘ بعد میں یہ پیشن گوئی تبدیل کی گئی اور کہا گیا کہ یہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یعنی یکم اپریل کو گرے گا اور اب اسپیس ڈاٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی محل گرینچ اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق ا ٓج رات 23 بج کر 53 منٹ ( جی ایم ٹی )کے بعد آئندہ سات گھنٹوں میں کبھی بھی گرسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے وقت بدلنے کا بنیادی سبب سورج ہے جس کی سطح پر عظیم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور یہی تبدیلیاں ممکنہ طور پر زمین پر ایک نئے برفانی دور کا آغاز بھی کرسکتی ہیں۔

یادرہے کہ یہ خلائی مرکز 2016 کے اواخر سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے مگر چین کی خلائی ایجنسی نے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے پر امن خلائی مشنز کو آگا ہ کیا ہے کہ ان کا خلائی مرکز سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے جس کے باعث یہ سٹیشن بے قابو ہو گیا ہےاور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ یہ تباہی کس جگہ نازل ہوگی۔ لیکن چینی سائنسدان صورتحال سے ہر گز غافل نہیں ہیں اور وہ یو این او کو اس کےگرنے کے باعث جانی یا مالی نقصان کے امکان سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے ۔

چین نے 2011ءمیں جب اپنا خلائی سٹیشن خلاءمیں بھیجا تو اس کے عزائم بہت بلند تھے کیونکہ وہ خلا میں ایک بہت بڑا سپیس کمپلیکس تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا خلائی سٹیشن تیان گانگ ۔1 ستمبر 2016ء کے بعد سےبے قابو ہوگیا اور اب ماہرین کا خیال ہے کہ 8.5 ٹن وزنی یہ خلائی سٹیشن دو سے تین ماہ میں سطح زمین سے آٹکرائے گا۔ سائنسدان اس کے زمین سے آٹکرانے کے صحیح دن و وقت کے بارے میں کوئی اندازہ لگانے سے اب تک قاصر ہیں اور نہ ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا ہدف کونسا خطہ بنے گا۔ کیونکہ موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آخری وقت میں بھی اس کے گرنے کی جگہ تبدیل ہو سکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ اگر ایشیاء میں گرنے کا امکان ہو تو اس کا ملبہ افریقہ میں جا گرے۔

کافی عرصے سے تکنیکی خرابی کے باعث اس خلائی سٹیشن کا مدار رفتہ رفتہ چھوٹا ہوتاجارہا تھا اور زمین کی جانب بڑھنے سے اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر جوناتھن میک ڈوول کا کہنا ہے کہ ”اب اس کی پیریگی 300 کلومیٹر سے کم رہ گئی ہے اور یہ کثیف ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ فلکیات کی اصطلاح میں پیریگی کسی بھی سٹیلائٹ کے اس مقام کو کہتے ہیں جو زمین سے سب سے نزدیک ہوتا ہے لہذا ٰخدشہ ہے کہ یہ خلائی سٹیشن اس سال کے اواخر یا اگلے سال کے اوائل میں کسی بھی وقت زمین پر آ گرے گا۔لیکن جب تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہوگا تو زیادہ رفتار اور حرارت کے باعث اس کا بڑا حصہ جل کر ٹکڑوں میں بدل جائے گا لیکن اس کے کچھ ٹکڑے اتنے بڑے ہو سکتے ہیں جن کا وزن اندازا ََ سو کلوگرام تک ہوگا جو لا محالہ زمین پر تباہی پھیلانے کا سبب بنیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں