The news is by your side.

Advertisement

کیا ہم کچھ دیر کے لیے “وقت” سے بے نیاز ہوسکتے ہیں؟

آنکھ سے دُور نہ ہو دل سے اُتر جائے گا
وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا
(احمد فراز)

وقت یعنی ٹائم، یا وقت کا تعین کرنا ہمارے لیے لازمی اور نہایت بنیادی کام ہے۔

اگر وقت کی اہمیت اور افادیت ظاہر کرنا ہو تو اسے بیش قیمت کہنے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسے انمول کہا جاتا ہے۔ یقیناً وقت کا کوئی بدل نہیں۔ جو ساعت گزر گئی، سو گزر گئی۔ ماضی سے حال کی طرف بڑھتا ہوا ہر پَل گویا وقت ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔

گھڑی….دیوار گیر ہو یا کلائی پر سجی ہو، وقت بتاتی ہے اور ہم اسی کے مطابق اپنے کام انجام دیتے ہیں۔ یہ سوال بہت عجیب ہے، مگر سوچیے کہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی کبھی ہم “وقت” سے مکمل طور پر بے نیاز ہوسکتے ہیں؟

وقت کا تعلق ہمارے پیمائشی نظام سے ہے جس میں دو واقعات کا درمیانی وقفہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور اس انمول شے کو ناپنے یا معلوم کرنے کا آلہ یا مشین گھڑی ہے جو دیوار پر لٹکنے سے کلائی پر بندھنے تک ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

گھڑی، انسانوں کی اہم ترین، نہایت مفید اور کارآمد ایجادات میں سے ایک ہے۔

زمانۂ قدیم میں چاند اور سورج کے ابھرنے، ڈوبنے اور ستاروں سے وقت اور دنوں کا حساب جوڑا جاتا تھا اور پھر انسان ٹائم کو گھڑی میں دیکھ کر شمار کرنے کے قابل ہو گیا۔

پندرھویں اور سولھویں صدی میں گھڑیوں کی تیاری میں جدت اور تیزی آئی۔ اس زمانے میں پنڈولم کی مدد سے گھڑیاں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جب کہ برقی رَو کی ایجاد سے پہلے یہ گھڑیاں میکانکی طرز پر کام کرتی تھیں، انھیں چابی دینا پڑتی تھی۔ بڑے بڑے گھڑیال چوک چوراہوں پر نصب ہوتے اور لوگ ان میں وقت دیکھتے تھے۔

بیسویں صدی عیسوی میں الیکٹرونک گھڑیاں بنانے کا آغاز ہوا اور یہ دیواروں سے کلائی تک پہنچ گئیں۔ نت نئے ڈیزائن کی گھڑیوں کو کلائی پر سجانا پسند کیا جانے لگا تو ظاہر ہے زنانہ اور مردانہ کی تخصیص اور تمیز بھی کی گئی۔

پہلے سوئیاں یا کانٹے وقت بتاتے تھے اور پھر ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نے گھڑیوں کو ڈیجیٹل کر دیا یعنی ان میں اعداد کے ذریعے وقت معلوم کیا جاتا۔

آج موبائل فون سیٹوں، کمپیوٹر اسکرین یا مختلف دوسری ڈیوائسز کے ذریعے لوگ وقت معلوم کرلیتے ہیں اور کسی بھی قسم کی گھڑی پہننے کا شوق ختم ہوتا جارہا ہے۔ تاہم اب بھی گھڑیاں تیار کی جاتی ہیں اور ماہر انجینئر، انھیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اب کلائی پر گھڑی نہیں باندھی جاتی، مگر یہ ضرور ہے کہ اس رجحان میں بہت کمی آئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں