The news is by your side.

Advertisement

آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، وزیراعظم نیوزی لینڈ

مسجد پر حملہ دہشت گردی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، جیسنڈا ایرڈن

ولنگٹن : نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا کرائسٹ چرچ مسجد پر مسلح افراد حملے کو پُر تشدد کارروائی قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، ہماری پوری کوشش ہے کہ شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کریں۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع 2 مساجد اور ایک اسپتال پر جمعے کی نماز کے دوران مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی، افسوس ناک واقعے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا ایرڈن نے حملے سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپنے طور پر تیار رہتے ہیں لیکن حملہ اچانک تھا، حملے کے حوالے سے خاکے شیئر کیے جارہے ہیں، ایسا نہ کیا جائے۔

جیسنڈا ایرڈن کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ مساجد حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چالیس ہوگئی ہے، حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، مجرمانہ سوچ کے حامل افراد نے حملہ کیا۔

جیسنڈا ایرڈن وزیر اعظم نیوزی لینڈ

ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک میں دہشت گردی پروان نہیں چڑھنے دیں گے، نیوزی لینڈ پر امن ملک ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، خودکش حملہ آوروں سے متعلق تاحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی عوام کو حملے سے متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کرنا چاہیے، مجرمانہ سوچ کے حامل افراد نے حملہ کیا، گرفتار ملزمان کی شہریت سے متعلق ابھی نہیں بتاسکتی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیسنڈا ایرڈن کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی اداروں نے حملے کے شبے میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کو گرفتار کیا ہے پولیس زیر حراست افراد سے تفتیش کررہی ہے۔

جیسنڈرا ایرڈن نے کہا کہ ملزمان تک اسلحہ پہنچنے پر سوال اٹھتے ہیں، تفتیش کر رہے ہیں، شہریوں سے درخواست ہے کہ پولیس کی ہدایات پرعمل کریں۔

مزید پڑھیں : نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں فائرنگ‘ 40 افراد جاں بحق

خیال رہے کہ کچھ دیر قبل کرائسٹ چرچ میں نمازجمعہ کے دوران مسلح دہشت گردوں نے مساجد میں موجود نمازیوں پر فائرنگ کی تھی، حملہ آوروں نے النور مسجد اور لِین وڈ میں نمازیوں کونشانہ بنایا ہے، جس کے نیتجے میں اب تک 40 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی موجود تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں