The news is by your side.

Advertisement

ابوظہبی: تبدیلی جنس کے لیے دو خواتین عدالت پہنچ گئیں

ابو ظہبی : متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیاں تبدیلی جنس کے لیے آپریشن کرانے کی اجازت حاصل کرنے عدالت پہنچ گئیں۔

خلیج ٹائمزکے مطابق 22 اور 23 سالہ دو لڑکیوں نے اپنی جنس تبدیل کرانے کے لیے ابو ظہبی کی وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ طبی معائنے اور تمام میڈیکل ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں کہ تبدیلی جنس کا آپریشن کروانا ناگزیر ہوگیا ہے۔

دونوں لڑکیوں نے وفاقی عدالت میں معروف قانون دان علی المنصوری کے توسط سے درخواست دائر کی ہے جس میں تبدیلی جنس کے آپریشن کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے اور سرکاری دستاویزات میں ناموں کی تبدیلی کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

مردوں جیسی آواز، چال اور جسمانی ساخت کے باعث آپریشن ضروری ہے

لڑکیوں کے وکیل المنصوری کا کہنا ہے کہ مردوں جیسی آواز، چال اور جسمانی ساخت کے باعث یہ دونوں لڑکیاں یورپ جا کر اپنا آپریشن کروانا چاہتی ہیں جس کے لیے میڈیکل بورڈ کے معائنے سمیت تمام ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن کی روشنی میں یہ آپریشن کیا جائے گا۔

میڈیکل بورڈ آپریشن تجویز کرچکا، وکیل

وکیل علی المنصوری نے مزید کہا کہ میری موکلان کو جنس کی تبدیلی کا آپریشن ماہر ڈاکٹرز کے بورڈ نے ہارمونز کی غیر تناسب ہونے کی وجہ سے تجویز کیا ہے جو کہ ان لڑکیوں میں مثبت نفسیاتی تبدیلیوں کا باعث بھی بنے گا۔

کم عمری سے ہی محسوس ہوتا تھا کہ ہم لڑکیاں نہیں مرد ہیں

لڑکیوں نے موقف اختیار کیا کہ کم عمری سے ہی ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ ہم لڑکیاں نہیں بلکہ مرد ہیں اور ایسا لگتا تھا جیسے لڑکی کے جسم میں لڑکے کی روح آ گئی ہو جس کے باعث اب تک کی عمر بے چینی ، گھبراہٹ اور پریشانی میں گزری ہے اور جیسے جیسے بلوغت قریب آتی گئی ویسے ویسے یہ احساس گہرا ہوتا گیا اس لیے یہ مشکل قدم اٹھایا ہے۔

لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ تبدیلی جنس کے آپریشن کے بعد ہمیں ملنے والی زندگی میں نئی شناخت بھی ملے اور ماضی کا ہر لمحہ و تعارف قصہ پارینہ بن جائے اس لیے عدالت سے آپریشن کی اجازت کے ساتھ ساتھ ناموں کی تبدیلی کی بھی اجازت مانگی ہے تا کہ ہمارے تعلیمی اور دیگر سرکاری دستاویزات میں ہمیں نئے نام سے جانا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں