The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین کی آزمائش فیصلہ کن مرحلے داخل

بینکاک: تھائی لینڈ کے سائنس دانوں نے پیر کو بندروں کو کو وِڈ 19 ویکسین کی دوسری تجرباتی ڈوز دے دی، انھیں اب ایک اور مثبت نتیجے کا انتظار ہے جس کے بعد اکتوبر کے آغاز میں انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع ہونے کا راستہ ہموار ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ تھائی ویکسین ان کم از کم 100 ویکسینز میں سے ایک ہے، جن کے عالمی سطح پر اس وقت وسیع سطح پر تجربات جاری ہیں، دوسری طرف تباہ کن کرونا وائرس کے وار جاری ہیں، اب تک دنیا بھر میں 4 لاکھ 74 ہزار 954 افراد جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 92 لاکھ 14 ہزار 500 افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔

تھائی ماہرین نے گزشتہ روز 13 بندروں کو ویکسین کی ڈوز دی، اب اگلے 2 ہفتے اس حوالے سے بہت اہم ہیں کہ محققین اس کی مزید آزمائش کے سلسلے میں آگے بڑھنے کا کوئی فیصلہ کریں گے۔

بینکاک کی یونی ورسٹی Chulalongkorn کے کرونا ویکسین ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کیاٹ رُگز رنتھم نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ایک بار پھر امیون ریسپانس کا تجزیہ کریں گے، اگر یہ بہت زیادہ رہا تو اس کا مطلب ہوگا کہ یہ بہت اچھی ویکسین ہے۔

کرونا ویکسین: چین نے وبا کے خاتمے کی امید پیدا کر دی

تھائی حکومت اس ویکسین کی تیاری کا خرچ اٹھا رہی ہے، یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ اگلے سال تک مقامی سطح پر ایک سستی ویکسین تیار ہو جائے گی۔

محققین جن بندروں پر تجربات کر رہے ہیں انھیں تین گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک کو ہائی ڈوز دی گئی ہے، دوسرے گروپ کو کم طاقت کی ڈوز دی گئی ہے جب کہ تیسرے گروپ کو کوئی ڈوز نہیں دی گئی۔ انھیں مجموعی طور پر تین انجیکشن دیے جا رہے ہیں، اور ہر مہینے میں ایک انجیکشن۔

ایک اور ملک نے کرونا ویکسین دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا

بندروں کو پہلی ڈوز 23 مئی کو دی گئی تھی، جس کے نتائج بہت مثبت آئے تھے، ویکسین ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہائی ڈوز گروپ میں ایک بندر اور کم ڈوز گروپ میں 3 بندروں پر اس کا نتیجہ نہایت متاثر کن تھا، اگر دوسری ڈوز کا نتیجہ بھی ایسا ہی نکلا تو انسانی آزمائش کے لیے پروگرام کے تحت 10 ہزار ڈوز کی تیاری کا آرڈر دیا جائے گا، انسانی آزمائش کے لیے بڑی تعداد میں رضاکار پہلے ہی سے پیش کش کر چکے ہیں۔

کیاٹ رُگز رنتھم کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ جلدی اگر ہو تو یہ ستمبر تک حاصل ہوگی، تاہم ہمیں اتنی جلدی کی توقع نہیں، کم از کم نومبر تک۔

Comments

یہ بھی پڑھیں