The news is by your side.

Advertisement

طاقت ور ملک کے صدر کو بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ گیا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ میرے ٹیکس گوشوارے ظاہر ہونے سے روکے جائیں ، اٹارنی نے امریکی صدر سے 2011 سے اب تک کے ٹیکس گوشوارے طلب کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس گوشوارے سرکاری وکیل کونہ دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائرکردی، صدرٹرمپ کے وکیل کا کہنا ہے کہ فیڈرل اپیل کورٹ نےایک اکاؤنٹنگ فرم کوٹیکس ریکارڈ مہیا کرنے کی اجازت دے کرسنگین قانونی غلطی کی ہے، صدرٹرمپ کومدت صدارت کے دوران کرمنل پروسیڈنگز اورتحقیقات سے استثنیٰ حاصل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدرٹرمپ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے گزشتہ آٹھ سال کے ٹیکس گوشوارے مین ہیٹن کے سرکاری وکلاء کو دینے سے روکا جائے۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے مین ہیٹن کی عدالت نے صدرٹرمپ کیخلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سرکاری وکلاء کو گرینڈ جیوری تحقیقات کے سلسلے میں صدر کے مالی ریکارڈ کی ضرورت پڑسکتی ہے جبکہ صدرٹرمپ اپنے مالی معاملات خفیہ رکھنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں : امریکی صدر ٹرمپ کو عہدے سے برخاست کیا جائے یا نہیں؟ تحقیقاتی کارروائی کا آغاز

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹارنی نے2011 ءسے اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کے ٹیکس گوشوارے طلب کیے ہیں، معاملہ قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ ہونے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات سے متعلق کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا امریکا کے 45 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے عہدے سے برخواست کیا جائے یا نہیں۔

اس حوالے سے وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکریٹری اسٹیفنی گریشم کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ یہ جعلی سماعت ناصرف بورنگ ہے، بلکہ یہ ٹیکس دینے والوں کے وقت اور ٹیکس کا ضیاع بھی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں