The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، عدالت نے بڑا فیصلہ سنادیا

واشنگٹن: ٹرمپ امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکاری ہے، ایسے میں پینسلوینیا کی عدالت نے ٹرمپ کو ایک اور زک پہنچادی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست پینسلوینیا کی مقامی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدارتی الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو رد کردیا ہے۔

مقامی عدالت کے جج میتھیو بران نے ٹرمپ ٹیم کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ کی ٹیم نے پینسلیوینیا میں ڈاک کے ذریعے کاسٹ ہونے والے ووٹوں کے بارے میں جو قانونی نکات پیش کیے ہیں وہ میرٹ کے بغیر اور افواہوں پر مبنی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد نو منتخب صدر جو بائیڈن کی پینسلوینیا میں جیت کی راہ ہموار ہوئی ہے جس کی تصدیق پیر کو ہوگی جبکہ عدالتی فیصلے کو ٹرمپ کے لئے نیا دھچکہ قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بیس نومبر کو بھی دستی بیلٹ گنتی کے بعد نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو جارجیا میں بھی فاتح قرار دے دیا گیا تھا، جارجیا میں جو بائیڈن کی فتح کے ساتھ 1992 کے بعد پہلی بار کسی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نے ریاست جارجیا میں فتح حاصل کی۔

امریکی میڈیا کے مطابق بائیڈن نے جارجیا کے 16 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کیے ہیں، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 232 کے مقابلے میں جوبائیڈن کو 306 الیکٹورل کالج ووٹوں کے ساتھ بڑی برتری حاصل ہو گئی ہے، تصدیق کے بعد الیکٹورل کالج کی چار دسمبر کو باقاعدہ طور ووٹنگ ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہاتھوں سے ووٹوں کی گنتی، جوبائیڈن جارجیا میں بھی فاتح قرار

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال بیس جنوری کو اقتدار جو بائیڈن کو منتقل کرنا ہے اور ایسے میں ان کی ٹیم اہم ریاستوں میں الیکشن حکام کی جانب سے نتائج کی تصدیق کو روکنا چاہتی ہے لیکن ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پینسلوینیا میں دوبارہ ری کاؤئنٹنگ کا عدالتی فیصلہ آنے سے قبل رپبلکنز نے ایک خط کے ذریعے ریاست مشی گن میں بھی ووٹوں کی تصدیق دو ہفتوں کے بعد کرنے کی درخواست دی ہے جس میں بائیڈن نے ایک لاکھ 55 ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کررکھی ہے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہار ماننے سے انکار کی وجہ سے یہ معاملہ بگڑ سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ امریکی ووٹروں کا ووٹنگ سسٹم پر سے اعتماد اٹھ سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں