The news is by your side.

Advertisement

چاند پر جانے کا جنون، ٹرمپ نے امریکی طالب علموں پر بجلیاں گرادیں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غریب اور متوسط طبقے کے طالب علموں پر بجلیاں گراتے ہوئے حکومت کی طرف سے دی جانے والی خصوصی گرانٹ کو ختم کر کے اسے ناسا کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس میں ایک بل بھیجا جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل پل گرانٹ کے تحت غریب اور نادار طلبا کے لیے 16 ارب ڈالر کی سلانہ رقم مختص کی گئی تھی اُسے اب ختم ہونا چاہیے تاکہ امریکا چاند پر اپنا نیا مشن بھیج سکے۔

بل میں بتایا گیا ہے کہ خطیر رقم ناسا کے 2024 مشن کے لیے مختص کی گئی تاکہ امریکا چاند پر دوبار حکمرانی قائم کرسکے اور دیگر ممالک کے مقابلے میں طاقتور مشن بھیج سکے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے حکم پر ناسا کا چاند مشن پروگرام بحال

بل میں کہا گیا ہے کہ ناسا یا خلا سے دلچسپی رکھنے والے طالب علم ویسے بھی سامنے آرہے ہیں، حکومت کی جانب سے تعلیم پر دیا جانے والا بجٹ ختم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کانگریس میں پیش کردہ بل پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کیا جارہا ہے اور چند ماہرین نے اسے امریکی صدر کی بڑی حماقت بھی قرار دیا۔

ناسا کے خلا باز جوس ہرننڈیز کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ہم چاند پر جائیں اور تعلیم کے لیے اخراجات ہی نہ ہوں، اس اقدام سے بہتر ہے کہ حکومت تعلیمی بجٹ کو بڑھا دے اور خصوصی سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ اُن ہی کالجز سے اچھے طالب علم سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: خلا میں طویل ترین وقت گزارنے والی امریکی خاتون خلا باز لوٹ آئیں

یاد رہے کہ امریکا میں ہونہار طالب علموں کے لیے حکومت کی جانب سے ’پل گرانٹ پروگرام‘ متعارف کرایا گیا تھا جس سے سالانہ 70 لاکھ طالب علم استفادہ کرتے ہیں، اس گرانٹ کے تحت کالجز اور یونیورسٹیز کو رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ باصلاحیت طالب علموں کے اخراجات ادا کرسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں