The news is by your side.

Advertisement

ترکی: ناکام فوجی بغاوت میں ملوث 104 فوجی افسران کو عمر قید کی سزا

انقرہ: ترکی میں طاقت کے بل بوتے پر حکومتی تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کرنے والے 104 فوجی افسران کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی جبکہ ترک صدر  رجب طیب اروگان کے قتل کی معاونت کرنے والے 21 افراد کو 20 سال کے لیے جیل بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق دو سال قبل ترکی میں فوجی بغاوت کے ذریعے سول حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد پورے ملک کے مختلف شہروں میں ہنگامی پھوٹنے سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ترکی کی عدالت نے ٹرائل مکمل کیا اور بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے میں ملوث 104 فوجی افسران پر جرم ثابت ہونے کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی جبکہ ترک صدر کے قتل کی معاونت کرنے والے 21 افراد کو 20 برس قید پر جیل بھیجا۔

مزید پڑھیں: ترکی میں فوجی بغاوت کی سیاہ تاریخ

عدالت نے ملکی سطح پر دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم سے روابط پر 31 افراد کو دہشت گردی قوانین کے تحت 7 سے 11 برس قید کی سزا بھی سنائی۔

واضح رہے کہ 18 جولائی 2016 کو ترکی میں فوج کے باغی گروہ نے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی تھی جسے عوام نے ناکام بنادیا تھا، اس دوران عوام سڑکوں پر نکل کر آئے اور فوجی  ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے جس کے بعد ترک فوج کے باغی ٹولے نے ہتھیار ڈال کر اپنی شکست تسلیم کی تھی اور پھر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی: ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال مکمل،7 ہزار افراد نوکریوں سے برطرف

ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت سے متعلق تحقیقات کرنے والی ’استغاثہ ٹیم‘ کے سرابراہ کی جانب سے حکم جاری کیا تھا کہ حکومتی تختہ الٹنے کی پلاننگ کرنے والے 300 مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جائے جن میں 211 فوجی بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ رجب طیب اردگان کے ویڈیو میسج کے بعد عوام اُن کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے فوج کے خلاف خود کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت کردکھایا تھا، ترک حکومت نے گزشتہ برس تک تحقیقات کے بعد مختلف سرکاری اداروں سے 7 ہزار سے زائد ملازمین برطرف کیے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں