The news is by your side.

Advertisement

ترکی میں ایس 400 میزائل دفاعی نظام 2020ءمیں فعال ہوگا،وزیر خارجہ

انقرہ : ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبرص میں توانائی کی دریافت یا ڈرلنگ کے جہازوں کی ضرورت نہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ایس400 میزائل دفاعی نظام 2020ءکے اوائل میں فعال ہوجائے گا،انھوں نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے روس سے اس میزائل نظام کے سودے پر کوئی پابندیاں عاید کیں تو ترکی بھی جواب میں پابندیاں عاید کر دے گا۔

انھوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو ایک انٹرویومیں کہاکہ اس ڈیل پر امریکا کی پابندیوں کے معاملے پر غیر یقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پر پابندیاں عاید نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف 35 لڑاکا جیٹ پروگرام کے شراکت دار ممالک امریکا کے ترکی کو معطل کرنے کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے ترکی کو روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر لڑاکا جیٹ طیاروں کے فاضل پرزوں کی تیاری کے پروگرام سے معطل کر دیا ہے اور اس کو خرید کیے گئے لڑاکا جیٹ مہیا کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

مولود شاوش اوغلو نے شام کی صورت حال سے متعلق کہا کہ جنگ زدہ ملک کے شمالی علاقے میں اگر محفوظ زون قائم نہیں کیا جاتا ہے اور ترکی کے لیے خطرات جاری رہتے ہیں تو دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے علاقے میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔

ترکی شام کے شمالی علاقے میں محفوظ زون کے قیام کے لیے امریکا سے بات چیت کر رہا ہے جبکہ امریکا کرد ملیشیا وائی پی جی کی حمایت کر رہا ہے، ترکی نے اس جنگجو گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور وہ اس کو کالعدم کرد جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ہی کا حصہ قرار دیتا ہے۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ شمالی شام میں محفوظ علاقے کے قیام کے لیے جلد امریکا سے کوئی سمجھوتا طے پاجائے گا۔ انھوں نے انقرہ میں شام کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیمز جعفرے سے ملاقات میں جنگ زدہ ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ بحر متوسطہ میں توانائی کی دریافت یا ڈرلنگ کے جہازوں کی ضرورت نہیں ہے، وہ قبرص جزیرے میں ترکی کی گیس اور تیل کی تلاش کے لیے کھدائی پر پیدا ہونے والے تنازع کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی خطے میں توانائی کے وسائل پر پیدا ہونے والے اس نئے تنازع کے حل کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں