The news is by your side.

Advertisement

حکمراں جماعت میں پھوٹ پڑنے خدشہ، طیب اردوآن کو بغاوت کا خطرہ

انقرہ : ترکی کے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت آق کو شکست کے بعد ترک صدر طیب اردورآن کی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق معروف امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تُرکی میں صدر رجب طیب اردوآن کی بعض آمرانہ پالیسیوں اور فرد واحد کے فیصلوں سے ان کی اپنی جماعت آق میں پھوٹ پڑنے اور جماعت کے بعض رہنماﺅں کی جانب سے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوششوں کی خبریں اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ترکی کی حکمراں جماعت انصاف و ترقی میں صدر طیب اردوآن کے خلاف بغاوت کا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔

ترک صدر کے خلاف ان کی جماعت میں بغاوت کی افواہیں اس وقت مزید تیز ہوگئیں جب جماعت کے ایک سابق سینئر رکن نے طیب اردوآن کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنی آمرانہ روش ترک نہ کی تو اس کے نتیجے میں آق پارٹی میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال آق پارٹی کو سخت نوعیت کے اقتصادی دباؤ کا بھی سامنا ہے، رواں سال مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میںآق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے اردوآن کی پوزیشن مزید کمزور کردی۔

اس کے ساتھ ساتھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایردوآن کے ناراض ساتھی جن میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم شامل ہیں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ نئی جماعت صدر طیب اردوآن کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ مارچ میں جب استنبول بلدیہ کے انتخابات میں اپوزیشن جماعت کے لیڈر کو میئرکے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تو صدر طیب اردوآن اور ان کی جماعت کو یہ کامیابی گوارہ نہیں ہوسکی۔

آق پارٹی نے استنبول بلدیہ کے انتخابات کالعدم قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے رواں سال جون میں استنبول میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

حکمران جماعت کے اس غیر جمہوری طرز عمل پرعوام میں بھی سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس کا اظہار احتجاجی مظاہروں میں بھی ہوتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ جہاں تک صدر طیب اردوآن پر تنقید کرنے والی اہم شخصیات اور پارٹی رہ نماﺅں کی بات ہے تو اس میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیراعظم احمد داﺅد اوگلو نمایاں ہیں۔

دونوں رہ نماﺅں کا موقف ہے کہ صدر اردوآن آئین اور قانون کی بالادستی سے انحراف کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں، چند ہفتے پیشتر داﺅد اوگلو کاایک تفصیلی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ترکی کے نئے دستور جس میں اردوآن کو مطلق اختیارات دیئے گئے ہیں پر شدید تنقید کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں