The news is by your side.

Advertisement

کراچی عمارت منہدم ہونے کا واقعہ، 14 افراد جاں بحق، 36 زخمی

کراچی : شہر قائد کے علاقے رضویہ سوسائٹی میں رہائشی عمارت گرنے سے 14 افراد جاں بحق اور 36 سے زائد زخمی جبکہ متعدد مکین تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،  تنگ گلیوں کے باعث امدادی کاموں میں ریسکیو ٹیموں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے گولیمارنمبر دومیں واقع تھانہ رضویہ کے قریب میں  تعمیر ہونے والی رہائشی عمارت چھٹی منزل کی چھت پڑنے کے دوران اچانک منہدم ہوئی۔

گنجان علاقےکی تنگ گلیوں کےدرمیان موجودہ رہائشی عمارت گری توفوری طورپرعلاقہ مکین جمع ہوئے اور انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت  ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچیں البتہ تنگ گلیوں کی وجہ سے مشینری جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے رضاکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

حادثے کے فورا بعد رینجرز جائے وقوع پرپہنچی اورایمبولینسز کیلئے راستہ کلیئرقرارکروایا، پولیس اوررسیکیوٹیمیں بھی جائےحادثہ پر پہنچ گئیں تاہم تنگ گلیوں کےباعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات کاسامنا ہے۔


اپ ڈیٹ

رہائشی عمارت مہندم ہونے سے اب تک 11افرادجاں بحق اور 35 سے زائد زخمی ہوئے ، زخمیوں میں خواتین اوربچےشامل ہیں ، جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

میڈیکو لیگل آفیسر عباسی شہید کے مطابق اب تک 11 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک مرد، دو بچے اور پانچ خواتین شامل ہیں، اسپتال آنے والے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

• 40: 06 ملبے تلے دبنے والی ایک اور لاش کو نکالا گیا۔

• 45: 08 :  وزیراعلیٰ سندھ نےکمشنرکراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جو عمارت کی ناقص تعمیرات اور ذمہ داران سے متعلق رپورٹ وزیر اعلیٰ کو دے گی۔

• 45: 08 : مزید تین زخمی دم توڑ گئے جس کے بعد جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 14 تک پہنچ گئی۔

* رات 15: 12 : عباسی شہید اسپتال لائے گئے 36 زخمیوں میں سے 34 کو گھر بھیج دیا گیا جبکہ 2 زخمی تاحال زیر علاج ہیں۔

رات 12:15 گلبہارمیں گرنےوالی عمارت کے متاثرین کو مقامی انتظامیہ یا سندھ حکومت کی جانب سے متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے وہ گلیوں میں ہی کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

المناک حادثے میں جہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا وہی مکینوں کو مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا، عمارت کے نیچے کھڑی ہونے والی کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی ملبے تلے دب کر مکمل تباہ ہوگئیں۔

عمارت گرنے سے اطراف کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جن کو حکام کی جانب سے فوری طور پر خالی کرالیاگیا، اہل علاقہ کاکہناہےکہ گرنے والی عمارت دوسال پہلےتعمیر کی گئی تھی،جس میں کئی خاندان آباد تھے۔

ایس بی سی اے کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور انجینئرنگ ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کردیا، ایس بی سی اے حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ملبے تلےافراد کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے، عمارت زیادہ عرصہ پرانی نہیں۔

ایڈیشنل ڈی جی ایس بی سی اے آشکارداوڑ نے مزید کہا کہ 40اور30گزکی کیٹیگری پررضویہ میں غیرقانونی تعمیرات کی جارہی ہیں، امدادی کارروائیوں میں ہمیں تمام اداروں کی مددحاصل ہے، غیرقانونی تعمیرات کےخلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے، عمارت کچھ پرانی تھی۔

غیرقانونی عمارتیں بنی ہیں اوربنتی رہی ہیں، عمارت بنانےوالوں کوبھی سزادینی چاہیے، سپریم کورٹ کاحکم ہےغیرقانونی تعمیرات کرنےوالوں کونہیں چھوڑیں گے۔

میئر کراچی کی ہدایت پراربن ریسرچ ریسکیوسینٹر ٹیم موقع پرپہنچ گئی ہے ، ریسکیوٹیموں کے پاس ملبہ ہٹانے کے آلات موجود ہیں، ماہرین بڑے بڑے بلاکس ہٹارہے ہیں ، ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے کہ جگہ تنگ ہے،بھاری مشینری کااستعمال نہیں کرسکتے، بڑے بڑے بلاکس کورسیو ں سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی ، 3 عمارتیں متاثر ہونے پر ملبے کو ہٹانے میں مشکلات کاسامناہے۔

دوسری جانب گورنرسندھ عمران اسماعیل نے عمارت گرنےکےواقعےکانوٹس لیتے ہوئے کمشنرکراچی اورایس بی سی اے سے رپورٹ طلب کرلی اور کمشنر کراچی کو فوری کارروائی کرنےکی ہدایت دیتے ہوئے کہا عمارت میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔

میئر کراچی وسیم اختر نے بھی گولیمارمیں عمارت گرنےپرافسوس کااظہار کرتے ہوئےضلع وسطی کےچیئرمین کوامدادی کاموں کی نگرانی کی ہدایت کردی اور کہا عباسی شہیداسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈاکٹروطبی عملے کوالرٹ کردیاگیاہے اور ٹراما سینٹرمیں بھی اقدامات کرلئےگئے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں