The news is by your side.

Advertisement

یو اے ای: چاقو کے وار سے باپ کو قتل کرنے والے مجرم کا عبرتناک انجام

العین: نشے کے پیسے نہ دینے پر ناخلف بیٹے نے والد پر چاقو کے پے در پے وار کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست العین میں منشیات کی لت میں مبتلا رہنے والے شخص نے مبینہ طور نشے کے لئے رقم نہ دینے پر اپنے والد کو بے دردی سے قتل کردیا، یہ رمضان میں تراویح کے دوران واقعہ پیش آیا تھا.

العین کی ابتدائی فوجداری عدالت نے قاتل کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی ، متاثرہ خاندان نے اسے معاف کرنےاور خون بہا لینے سے انکار کیا،پولیس تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم متواتر اپنے والد سے منشیات کے لئے رقم کا مطالبہ کرتا آیا تھا، اس کا والد کھبی اسے رقم دیتا اور کھبی ٹال دیتا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق مجرم اپنے والد کواس وقت مارتا تھا جب وہ رقم دینے سے منع کرتا تھا، یہ نوجوان منشیات کیس میں بھی ملوث رہا تھا اور ری ہیبلی ٹیشن سینٹر میں بھی رہا، وقوعہ کے روز مجرم اپنے والد سے الجھ بیٹھا تھا اور گھر میں انہیں ایک جگہ محصور کرکے تیز دھار آلے سے اسے چھتیس وار کرکے قتل کیا۔

پولیس کے مطابق اپنے کمرے کے بالکونی سے واقعے کا مشاہدہ کرنے والا ملزم کا بھائی نیچے دوڑ آیا اور اس کے والد کو اس کی گاڑی میں بٹھا کر اسپتال لے جانے کی کوشش کی لیکن مجرم نے اس کا راستہ روکا اور اس کی گاڑی کو بری طرح نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات، کرونا کے حوالے سے حوصلہ افزا خبر

دوسرا بھائی جو گھر سے باہر تھا، اس نے اپنے والد کے چینخنے کی آواز سن کر پولیس کو آگاہ کیا ، والد کو اسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن جانبر نہ ہوسکا۔

العین میں فیملی پراسیکیوشن نے ملزم پر پہلے سے طے شدہ قتل کا الزام عائد کیا تھا، ان پر اپنے بھائی کی گاڑی کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کا الزام بھی لگایا گیا تاکہ والد کو ہنگامی حالت میں طبی امداد حاصل کرنے سے روکا جاسکے،ا س شخص پر مزید الزام لگایا گیا کہ وہ منشیات استعمال کرتا تھا۔

استغاثہ نے درخواست کی تھی کہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے اور اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ مقتول مجرم کا باپ ہے جس کی وجہ سے ایک پریشان کن صورت حال پیدا ہوئی۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نشے کی حالت میں تھا اور اسے خبر نہ ہوئی کہ اس نے قتل کیا ہے تاہم عدالت نے یہم استدعا مسترد کی، میڈیکل کمیٹی نے مجرم کو ذمے دار ٹہرایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں