The news is by your side.

Advertisement

جاں نثار اختر: “آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو…”

ترقّی پسند ادب کے نمایاں اور اہم شعرا میں‌ جاں نثار اختر کا نام بھی شامل ہے جنھیں ہندوستان کی فلم نگری میں ان کے خوب صورت اور سدا بہار نغمات نے شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں‌ پر پہنچایا۔

اردو کے اس ممتاز شاعر کا تعلق خیر آباد (یوپی) سے تھا۔ جاں نثار اختر نے شاعری کا ذوق وراثت میں پایا تھا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز اور تربیت و فکری نشوونما علی گڑھ میں ہوئی۔ فلم نگری میں اپنی شاعری کی بدولت شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے والے جاں نثار اختر نے ادب کے علاوہ متعدد فلمی ایوارڈ بھی اپنے نام کیے۔

یہاں ہم ان کی مشہور غزل باذوق قارئین کے لیے پیش کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

صندل سے مہکتی ہوئی پُرکیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بَل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Comments

یہ بھی پڑھیں