The news is by your side.

Advertisement

بچوں کا اسکول نہ جانا کرونا سے زیادہ بدتر ہے: برطانوی چیف میڈیکل آفیسر

لندن: برطانوی چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ بچوں کا اسکول نہ جانا کرونا وائرس کی وبا سے کہیں زیادہ بد تر معاملہ ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر کرس وھٹی نے بچوں کے اسکول نہ جانے کو کرونا وائرس سے کہیں زیادہ بدتر قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں میں کرونا سے متاثر ہونے کی شرح انتہائی کم ہے، اسکول نہ جانے سے بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، اگر بچوں میں وائرس کی علامات ہوں تو انھیں اسکول نہ بھیجا جائے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بچوں کے اسکول جانے اور کرونا کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے کے حوالے سے برطانیہ، اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کے چیف اور ڈپٹی چیف میڈیکل افسران کا ایک متفقہ بیان جاری کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں کرونا کے حوالے سے نئی پابندی عائد

متفقہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ متعدد شواہد سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اسکول میں تعلیم کی کمی سے عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے، بچوں کی زندگی میں آنے والے امکانات کم ہو جاتے ہیں، ان کی جسمانی اور دماغی صحت سے متعلق مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول نہ صرف صحت اور تعلیم بہتر کرتے ہیں بلکہ آپس کے میل جول اور نوکری سمیت زندگی میں آنے والے مواقع کی بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ صرف گھریلو تعلیم کی فراہمی کے ذریعے معاشرتی عدم مساوات کو کم کرنا ممکن نہیں ہے، بچوں اور نوجوانوں کے لیے اسکول کی حاضری بہت ضروری ہے۔

متفقہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں ان مضبوط ثبوتوں پر اعتماد ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پرائمری یا ثانوی اسکول جانے والی عمر کے بچوں میں کرونا وائرس سے اموات کا خطرہ بہت ہی کم ہے۔ 5 سے 14 سال کی عمر میں کرونا انفیکشن سے اموات کی شرح دس لاکھ میں سے صرف 14 ہے جو کہ اکثر موسمی فلو انفیکشنز سے کم ہے۔

بیان کے مطابق اگرچہ ہر بچے کی موت ایک المیہ ہے تاہم کو وِڈ 19 سے بچوں اور لڑکوں میں اموات خوش قسمتی سے نہایت ہی کم ہے، اور کرونا سے جو بچے مرے ہیں انھیں بھی پہلے سے صحت کے مسائل لاحق تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں