The news is by your side.

گولان پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کی قرارداد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، موگیرینی

برسلز/تیونس : یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور فیڈریکا موگیرینی کا مسئلہ فلسطین سے متعلق کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے تیونس کے دارالحکومت رباط میں منعقدہ عرب لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گولان ہائٹس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو نظرانداز کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے تیونس میں جاری عرب لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ گولان ہائٹس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو نظرانداز کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بات چند روز قبل امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ گولان پہاڑیوں کو اسرائیلی علاقے کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کے جواب میں کہی۔

موگیرینی کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے اوردو ریاستی حل کو ناقابل عمل بنانے سے روکا جائے۔

مزید پڑھیں : گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 52 سال بعد امریکا شام کی گولان ہائیٹس پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی سلامتی اور علاقے کے استحکام کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی یروشلم میں ہیں۔

واضح رہے کہ گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پرپھیلی ایک پتھریلی سطح ہے جو کہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباََ 60 کلومیٹرجنوب مغرب میں واقع ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں