The news is by your side.

Advertisement

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پلازمہ تھراپی سے علاج نقصان دہ قرار دے دیا

لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پلازمہ تھراپی سے علاج کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا اس کےنتیجےمیں مریض کا دل بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ سینتھیٹک اینٹی باڈیزکی تیاری شروع کردی۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پلازمہ تھراپی سے علاج کو نقصان دہ قرار دے دیا، اور سینتھیٹک اینٹی باڈیزکی تیاری شروع کردی، وی سی یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے کہا پلازمہ تھراپی میں مریضوں کیلئےپیچیدگیاں پیداہوسکتی ہیں، اس کےنتیجےمیں مریض کا دل بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

وائس چانسلریونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی نے پلازمہ میں سے اینٹی باڈیزعلیحدہ کرلی ہیں، ہیومن ہائیبرڈروما ٹیکنیک کے ذریعے مصنوعی اینٹی باڈیز بنائی جا رہی ہیں، جس کے بعد کورونا کے علاج میں پلازما کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

یو ایچ ایس اوریونیورسٹی آف لاہورکےدرمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، معاہدےپرپروفیسر جاوید اکرم ،سی ای او یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف نےدستخط کیے، دونوں کے اشتراک سے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار کی جارہی ہے۔

پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پرسینتھیٹک اینٹی باڈیز کے منصوبے پرکام شروع کردیا ہے، یو ایچ ایس یہ کارنامہ انجام دینے والی ایشیا کی پہلی یونیورسٹی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں