اولمپکس میں حصہ لینے والے بدقسمت ترین کھلاڑی -
The news is by your side.

Advertisement

اولمپکس میں حصہ لینے والے بدقسمت ترین کھلاڑی

اولمپکس کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ کچھ کھلاڑی سونے کے تمغہ جیت کر اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ کچھ فتح سے 2 قدم پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس لمحہ کو اپنی ساری زندگی کا بدقسمت ترین لمحہ سمجھتے ہیں۔

یہاں ہم کچھ ایسے ہی کھلاڑیوں کا ذکر کر رہے ہیں جن کی بدقسمتی عین وقت پر آڑے آگئی اور وہ فتح سے صرف چند قدم دور ہونے کے باوجود شکست کھا گئے۔

:دوراندو پیٹری

9

لندن اولمپکس 1908 میں اطالوی کھلاڑی دوراندو پیٹری ریس کے دوران تھکاوٹ کا شکار ہوگئے اور بار بار رکنے لگے۔ ان کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں 2 ڈاکٹرز کی مدد سے فنشنگ لائن عبور کرنی پڑی۔ مدد لینے کے باعث وہ ریس میں نااہل قرار پائے۔ بعد ازاں ان کے کوچ نے الزام عائد کیا کہ ان کی یہ حالت ناشتے میں زیادہ اسٹیک کھانے کے باعث ہوئی۔

:فرانسسکو لزارو

7

اسٹاک ہوم اولمپکس 1912 میں پرتگالی کھلاڑی فرانسسکو لزارو نے دوڑ سے قبل سورج کی حدت سے بچاؤ کے لیے پورے جسم پر موم لگا لیا۔ اس عمل سے ان کے جسم کے تمام مسام بند ہوگئے اور پسینہ خارج نہ ہوسکا۔ یوں ریس کے دوران ہی وہ جسمانی کیمیائی توازن بگڑنے سے موت کا شکار ہوگئے۔

:ویم ایساجس

10

ونٹر اولمپکس 1960 میں جنوبی امریکی ملک سورینام سے پہلے کھلاڑی ویم ایساجس اولمپک مقابلوں میں شریک ہوئے۔ لیکن بدقسمتی سے ان کے کوچ نے غلطی سے انہیں ریس کا وقت غلط بتا دیا جس کے باعث وہ سوتے رہ گئے اور ان کی بے خبری میں ریس شروع ہوگئی۔

:ملکھا سنگھ

2

بھارت کے مشہور کھلاڑی ملکھا سنگھ بھی روم اولمپکس 1960 میں بدقسمتی سے نہیں بچ پائے۔ دوڑ میں وہ تقریباً فنشنگ لائن کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن پھر اچانک وہ پہلے سے چوتھے نمبر پر آگئے۔ ہوا دراصل یوں کہ انہوں نے جیتنے سے قبل ہی جشن منانا شروع کردیا اور ان چند سیکنڈز کے وقفہ میں ان سے پیچھے والے آگے نکل گئے۔

:میری ڈیکر

13

لاس اینجلس اولمپکس 1984 میں خواتین کی 3000 میٹر کی ریس میں جنوبی افریقہ کی کھلاڑی زولا بڈ نے اپنی امریکی حریف میری ڈیکر کو دھکا دے کر آگے نکلنے کی کوشش کی۔ میری اس وقت سب سے آگے دوڑ رہی تھیں اور ان کے جیتنے کے امکانات نہایت روشن تھے۔ لیکن اس دھکے سے وہ نیچے گر گئیں اور انہیں زخمی حالت میں ریس سے باہر ہونا پڑا۔

جنوبی افریقی کھلاڑی زولا بڈ اس کے بعد سب سے آگے ہوگئیں۔ تاہم انہوں نے گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا جس کی وجہ انہوں نے بعد میں یہ بتائی کہ وہ افسوس سے دو چار مقامی کراؤڈ کے سامنے تمغہ نہیں لے سکتی تھیں۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی مشتعل تماشائی ان پر حملہ نہ کردے۔

:گریگ لوگنس

8

سیول اولمپکس 1988 میں امریکی تیراک گریگ لوگنس پانی میں چھلانگ لگاتے ہوئے اپنا سر تختہ سے ٹکرا بیٹھے اور زخمی ہوگئے۔ تاہم بعد میں اگلے 2 اولمپکس کھیلوں میں انہوں نے تیراکی کے مقابلوں میں سونے کے تمغے حاصل کیے۔

:روئے جانز

11

سیول اولمپکس 1988 میں مشہور امریکی باکسر روئے جانز کی شکست نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ ریفری نے ان کے مقابل جنوبی کورین حریف کو فاتح قرار دیا۔ تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ ریفری کو جنوبی کورین حکام کی جانب سے رشوت دی گئی جس کے بعد یہ فیصلہ منسوخ کردیا گیا۔

:فریڈرک ویس

فرانسیسی باسکٹ بال کے کھلاڑی فریڈرک ویس اپنی 7 فٹ طویل القامتی کی وجہ سے مشہور ہیں تاہم 2000 کے سڈنی اولمپکس میں ان کے ساتھ برا واقعہ پیش آگیا۔ امریکا کے ساتھ میچ کے آخری منٹ میں انہوں نے بال کو باسکٹ کی جانب پھینکا لیکن اچانک امریکی کھلاڑی ونس کارٹر نے پھرتی سے چھلانگ لگائی اور ان کے اوپر چڑھ کر بال کو باسکٹ میں جانے سے پہلے ہاتھ لگا دیا جس کے بعد ہونے والا گول امریکا کے نام ہوگیا۔

یہ ایک ایسی حیرت ناک پھرتی تھی جس نے خود امریکی کھلاڑیوں کو بھی دنگ کردیا۔ میڈیا نے اسے موت کا ڈنک (باسکٹ بال میں کیا جانے والا گول) قرار دیا۔

:جینس برنائی

12

بیجنگ اولمپکس 2008 میں ہنگیرین ویٹ لفٹر جینس برنائی اپنے پہلے اولمپک میں شریک ہوئے۔ ان کی سابقہ کامیابی کی بدولت انہیں پورا یقین تھا کہ وہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہیں گے۔ لیکن ویٹ لفٹنگ کے دوران ان کا کندھا اتر گیا اور ان کے جیتنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

جینس کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا اور اس کے بعد وہ کبھی کسی اولمپک میں شریک نہیں ہوئے۔

:میلورڈ کیوک

6

بیجنگ اولمپکس 2008 ہی میں سربیا کے تیراک میلورڈ کوویک امریکی مقبول کھلاڑی مائیکل فلپس کو شکست دے کر تاریخ رقم کرنے والے تھے، مگر مائیکل نے ان سے پہلے پانی کے اندر ہی سے فنشنگ دیوار کو چھو لیا اور ایک بار پھر گولڈ میڈل کے حقدار بن گئے۔

:جونی کوئین

4

امریکی کھلاڑی جونی کوئین یوں تو ایک کامیاب کھلاڑی تھے لیکن 2014 کے سوچی ونٹر اولمپکس میں ان کے ساتھ دو عجیب و غریب واقعات پیش آئے۔ ایک بار ورزش کے دوران مکے مارتے ہوئے ان کے باتھ روم کی دیوار ٹوٹ گئی۔ دوسری بار وہ کافی دیر تک لفٹ میں پھنسے رہے۔

ان کے مداحوں نے ان واقعات کو ’بد شگونی‘ سے تشبیہہ دی اور واقعی اولمپکس مقابلوں میں انہیں خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔

:ماریہ اتکینا

5

سوویت یونین کے زمانے کی کھلاڑی ماریہ اتکینا 4 دفعہ اولمپکس کے دوڑ کے مقابلوں میں شریک ہوئیں لیکن سونے کا تمغہ تو دور کی بات، وہ کبھی ٹاپ 5 میں بھی جگہ نہ بنا سکیں۔

:لیزا کری کینی

3

آسٹریلیا کی تیراک لیزا کری کینی کامن ویلتھ گیمز میں 7 سونے کے تمغوں سمیت 10 تمغے جیت چکی ہیں۔ مگر اسے انتہا درجہ کی بدقستی کہیئے کہ 13 اولمپک کھلیوں میں شرکت کے باوجود وہ وہاں ایک بھی تمغہ نہ جیت سکیں۔

:ریک اولسن

14

ڈنمارک کی بیڈ منٹن کی کھلاڑی ریک اولسن 6 اولمپکس مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ وہ ہر بار بیڈ منٹن کے چار سیٹس میں سے 3 میں تو فتح یاب ہوجاتی ہیں مگر آخری سیٹ کبھی نہیں جیت پاتیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں