The news is by your side.

Advertisement

عریاںؔ، ناکارہؔ اور آوارہؔ!

1932 میں مجھے اپنے منجھلے بھائی مبشّر احمد اور دوسرے عزیزوں سے ملنے حیدرآباد (دکن) جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے جن ادیبوں اور شاعروں سے حیدرآباد میں ملنا تھا ان کی فہرست خاصی طویل تھی۔

منجھو صاحب پولیس کے آدمی! انہیں تمام سلسلوں کی خبر تھی۔ فہرست دیکھ کر بولے ’’فرحت اللہ بیگ سے تمہیں سید وزیر حسین ملوائیں گے۔ فانی، جوش اور علی اختر سے کرنل اشرف الحق۔

مولوی عنایت اللہ سے تابش۔ میں بھی ساتھ چلا چلوں گا۔ تمکین کاظمی تو یہ سامنے ادارہ علمیہ میں روز شام کو آتا ہے۔ اور یہ ناکارہؔ اور آوارہؔ اور کون کون ہے، انہیں تھانے میں یہیں کیوں نہ بلوا لیا جائے؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’مناسب نہیں ہو گا۔ پہلے میں ایک ایک بار سب کے یہاں ہو آؤں۔ بولے ’’تو پھر یہ کرتے ہیں کہ تھانے میں نہیں کھانے پر سب کو بلا لیتے ہیں۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’اسے بھی بعد کے لیے اُٹھا رکھو۔‘‘ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ کرنل اشرف الحق باہر ہی سے آوازیں دیتے در آئے۔

’’شاہد کہاں ہے، شاہد کہاں ہے؟‘‘ میں دوڑ کر ان سے لپٹ گیا۔ اس وقت عمر میں مجھ سے دگنے تھے۔ میرے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ چودہ سال ولایت میں رہ کر ایڈنبرا سے ڈاکٹری کی سند لے کر آئے تھے اور قلعہ گولکنڈہ میں افواجِ باقاعدہ کے ڈاکٹر تھے۔

اللہ اُن کی روح کو شرمائے ہر وقت اتنی پیتے تھے کہ مرنے لگتے تھے۔ وہ شراب کو کیا چھوڑتے شراب انہیں چھوڑ دیتی تھی۔ اچھے ہونے کے بعد مہینوں نہیں پیتے تھے، پھر کوئی دوست ہشکا دیتا اور سلسلہ پھر جاری ہو جاتا، مگر اتنی پینے پر بھی میں نے ڈاکٹر صاحب کو کبھی بہکتے یا مدہوش ہوتے نہیں دیکھا۔

وہ اس قدر عجیب و غریب کردار کے آدمی تھے کہ اُن پر ایک علیحدہ مضمون لکھنے کی ضرورت ہے۔ مختصراً یہ سمجھیے کہ منجملہ اور صفات کے شعر کہنے کا بھی خاص ملکہ رکھتے تھے، مگر ہزل تو کیا نرا کُھرا فحش۔ عریاںؔ تخلص تھا۔

شعر و شاعری کی وجہ سے حیدرآباد کے تمام شاعروں سے تعلق تھا۔ اور سب کا دَم بھی ان سے نکلتا تھا کیوں کہ ذرا سی بات پر فحش ہجو لکھ دیا کرتے تھے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ خود جا کر اسے سنا بھی دیتے تھے۔

خیر تو ڈاکٹر صاحب سے یہ طے ہو گیا کہ جوشؔ صاحب سے مجھے وہ اگلے دن ملوا دیں گے ۔ دوسرے دن صبح دس بجے ڈاکٹر صاحب آئے اور مجھے دارالترجمہ لے گئے۔ سب سے پہلے ابوالخیر مودودی سے ملوایا جو ابوالاعلٰی مودودی کے بڑے بھائی تھے۔ دھان پان سے نرم و نازک آدمی تھے، مگر ان کے لفظ لفظ میں علمیت ٹپکتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ خوش اخلاقی سے کھانے پر مدعو کیا۔

مولانا عمادی سے ملوایا۔ انھوں نے بھی دعوت کی پیشکش کی۔ جوشؔ صاحب سے ملوایا، گرم جوشی سے ملے۔ دعوت کا دن مقرر کر لیا۔

(اردو زبان کے صاحب طرز ادیب شاہد احمد دہلوی کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں