The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے حزب اللہ کے دو پارلیمانی اراکین پر پابندی عائد کردی

واشنگٹن : امریکی محکمہ خزانہ نے حزب اللہ کے پارلیمانی اراکین پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دنیا کوایران اور اس کی گماشتہ دہشت گرد تنظیموں کے استحصال سے بچانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے‘۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مزید تین کارکنان پر پابندیاں عاید کردیں۔ان میں لبنانی پارلیمان کے دو منتخب ارکان بھی ہیں۔ان پر اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے حزب اللہ کی سیاسی ومالی معاونت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ کی سیاسی اور سکیورٹی کی شخصیات کو اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تنظیم کے ضرررساں ایجنڈے کی معاونت اور ایران کے آلہ کار کا کردار ادا کرنے پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے لبنانی پارلیمان کے جن دو ارکان پر پابندیاں عاید کی ہیں، ان کے نام امین شری اور محمد حسن رعد ہیں، ان کے علاوہ شیعہ ملیشیا کےایک سکیورٹی عہدے دار وفیق صفا بھی امریکا کی ان نئی پابندیوں کی زد میں آگئے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سیگل مینڈلکر نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ اپنے کارکنان کو لبنانی پارلیمان میں اداروں کی مالیاتی اور سکیورٹی مفادات کے لیے حمایت کے حصول کی غرض سے استعمال کررہی ہے اور ایران کی تخریبی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہے۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان اور خطے بھر کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہے اور وہ یہ سب کچھ لبنانی عوام کی قیمت پر کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارکے مطابق امریکا لبنانی حکومت کی اپنے اداروں کو ایران اور اس کی گماشتہ دہشت گرد تنظیموں کے استحصال سے بچانے کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ لبنان کے ایک پُرامن اور خوش حال مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔

غیر ملکی میڈیا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ محکمہ خزانہ نے حزب اللہ کے دو قانون سازوں کو بلیک لسٹ قراردیا ہے، اب امریکی شہری اورادارے ان کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرسکیں گے،ان کے علاوہ سرکردہ بین الاقوامی بنک بھی ان کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کریں گے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اب دوسری اقوام کے لیے یہ یقین کرنے کا وقت آگیا ہے اور وہ یہ تسلیم کریں کہ حزب اللہ کے سیاسی ونگ اور اس کے عسکری بازو میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کا کوئی بھی رکن جو کسی سیاسی عہدے کا امیدوار ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ کسی سیاسی دفتر کی چھتری تلے چھپ نہیں سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں