The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا، فیصلہ 2 سے 3 دن میں سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق جج بلیک میلنگ اسکینڈل کیس میں آج فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو آیندہ دو یا تین دن میں سنایا جائے گا۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے جج کو بتایا کہ مریم نواز نے ویڈیو سے لا تعلقی کا اظہار کرنے کی کوشش کی، شہباز شریف نے کہا کہ مریم نے پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل ویڈیو کا بتایا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا ہمیں غرض اپنے جج سے ہے جس پر الزامات آئے اور جج نے ویڈیو تسلیم بھی کی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا ناصر جنجوعہ اور مہر غلام جیلانی نے جج سے ملاقات کر کے 100 ملین روپے کی پیش کش کی، پیش کش نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں رہائی سے متعلق فیصلے سے مشروط تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  جج ویڈیو اسکینڈل میں بلیک میلنگ پر دس سال سزا ہوسکتی ہے: شہزاد اکبر

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہوگی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی، لگتا ہے کسی نے ویڈیو کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔

دریں اثنا، جج بلیک میلنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ مریم صفدر کا مخاطب کون سا ادارہ تھا؟

شہباز شریف نے جواب دیا کہ مخاطب کون تھا یہ مریم سے پوچھیں، مجھے جج کی ویڈیو کا مریم سےعلم ہوا، جج ارشد ملک کی قابل اعتراض ویڈیو دیکھی نہ اس کا علم ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا مریم صفدر نے آڈیو اور ویڈیو الگ الگ ریکارڈ کرنے کا بتایا، ناصر بٹ کے ساتھ موجود شخص کو نہیں جانتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں