The news is by your side.

Advertisement

ایران میں پرتشدد مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی

تہران: ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، اب تک ہلاک افراد کی تعداد 40 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے شہری حکومتی پالیسی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رہا اضافے کے خلاف دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں سراپا احتجاج ہیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور دیگر پرتشدد واقعات میں 40 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران حکومت نے چالیس کے قریب عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ ردعمل میں پولیس نے بھی آنسوگیس کی شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا، مظاہرین نے سرکاری املاک نذرآتش کردی۔

حالات کی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں کا مواصلاتی نظام معطل کیا گیا ہے، گزشتہ روز مظاہرین نے مختلف علاقوں میں ٹریفک کوبلاک کردیا جب کہ کچھ نے ایندھن کے اسٹوریج ہاؤس کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے مختلف شہروں میں بینکس کو بھی نذرآتش کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے برقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنادی، اب تک 1 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کردی ہے۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز خبردار کیا کہ ملک میں انتشار اور بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، احتجاج کرنے والوں اور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حساب دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ ایران نے پیٹرول کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث گزشتہ 3 روز سے مہنگائی، بے روزگاری اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں