The news is by your side.

Advertisement

وسچیرنگ قلعہ جسے آگ لگا دی گئی تھی!

جرمنی اپنی تاریخ، تمدن اور ثقافتی رنگا رنگی کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں‌ پہچانا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ سیر و سیاحت کے لیے اس ملک کا رخ کرتے ہیں۔

جرمنی میں‌ کئی صدی پرانے محلات، قلعے اور ایسی عمارتوں‌ کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں جو اپنے طرزِ تعمیر، محلِ وقوع ہی کے لحاظ سے منفرد نہیں‌ بلکہ ان سے متعلق شخصیات کے حالات، اس دور کے بعض مستند واقعات اور اکثر قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں اور سیاحوں کی توجہ اور دل چسپی کا باعث ہیں‌۔

جرمنی کے ایک علاقے نارتھ رائن ویسٹفیلیا کا وسچیرنگ قلعہ بھی اپنی تعمیر کے لحاظ سے منفرد ہے۔ اس قدیم قلعے کی تعمیر کے بارے میں‌ تاریخ میں‌ لکھا ہے کہ یہ 1271 میں‌ بنایا گیا اور اس وقت کے ایک بشپ گیرارڈ وون کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا اور بعد کے عرصے میں‌ اس میں‌ توسیع اور تبدیلیاں‌ کی جاتی رہیں۔

وسچیرنگ قلعے کے طرزِ تعمیر میں‌ دفاعی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پتھر اور مٹی استعمال کی گئی ہے جب کہ اس دور میں قلعے کو محلِ وقوع کے لحاظ سے اہمیت دیتے ہوئے ایک تالاب اور کھائی کے وسط میں تعمیر کیا گیا اور یہ آج بھی اسی جگہ کھڑا ہوا ہے۔ قلعہ‌ کے اندر مختلف محرابیں اس وقت کے طرزِ تعمیر کی خوب صورتی رہی ہو گی۔ یہ قلعہ تین منزلہ ہے جس کی مرکزی عمارت کی شکل گھوڑے کی نعل جیسی ہے۔

بیرونی یلغار، خانہ جنگی اور لوٹ مار نے اس قلعے کو بھی اجاڑا اور 1521 میں‌ اسے آگ لگا دی گئی، جس میں یہ عمارت بری طرح متاثر ہوئی جب کہ دوسری جنگِ عظیم میں بھی اسے نقصان پہنچا تھا۔

‌پتھروں کی مضبوط دیواروں والے اس قلعے کی چھت سرخ ٹائلوں سے مزین ہے جب کہ اس کے چاروں اطراف درخت اور سبزہ موجود ہے جو اس قلعے کی دل کشی اور حُسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں