The news is by your side.

Advertisement

میرے پاس تم ہو: کیا ڈرامے کا اختتام دانش کی موت پر ہوگا؟

آخری قسط لکھتے ہوئے مصنف پر کیا بیتی؟ جانیں انہی کی زبانی

کراچی: اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کا اختتام قریب آگیا ہے اور اس کے مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے اشارہ دیا ہے کہ ہوسکتا ہے ڈرامے کے اختتام پر ناظرین کو اپنے پسندیدہ کردار دانش کی موت کا صدمہ اٹھانا پڑے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کے مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں شرکت کی اور پسندیدگی کے ریکارڈ توڑ دینے والے ڈرامے کے بارے میں گفتگو کی۔

سب سے پہلے انہوں نے وضاحت کی کہ اگلی قسط دل تھام کر دیکھنے کا بیان انہوں نے ڈرامے کی آخری قسط کے لیے دیا تھا، ’کیونکہ اس ڈرامے کو مرد حضرات بھی بہت شوق سے دیکھ رہے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ آخری قسط دیکھتے ہوئے احتیاط کریں اور اپنی دوائیاں قریب رکھیں‘۔

خوبصورت ڈائیلاگز اور فقروں کے لیے مشہور خلیل الرحمٰن قمر نے اس موقع پر بھی فقرہ جڑا کہ عورت تو مسلسل جذبات کی حالت میں رہتی ہے لیکن مرد جب جذباتی ہوتا ہے تو عورت سے زیادہ جذباتی ہوجاتا ہے، لہٰذا اس موقع پر احتیاط ضروری ہے۔

خلیل الرحمٰن قمر نے بتایا کہ اس ڈرامے کا ٹائٹل سانگ لکھتے ہوئے وہ زار و قطار رو رہے تھے، کیوں کہ یہ سب انہوں نے اپنی طرف سے نہیں گھڑا بلکہ بہت سے لوگوں کو اس کرب سے گزرتے دیکھا ہے۔

آخری قسط لکھتے ہوئے مصنف پر کیا بیتی؟

مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کرنے کے بعد اب چونکہ ڈرامہ اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے اور رواں ہفتے اس کی سیکنڈ لاسٹ قسط پیش کی جائے گی تو ناظرین کو ڈرامے کے اختتام کے بارے میں بے حد تجسس ہے۔

مارننگ شو کے میزبانوں شفقت اور مدیحہ نے بھی ڈرامے کی آخری قسط کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی۔

اس سے پہلے خلیل الرحمٰن قمر نے اس وقت کے بارے میں بتایا جب انہوں نے آخری قسط لکھی۔ ’میں نے ڈرامے کی آخری قسط زار و قطار روتے ہوئے لکھی، صبح ساڑھے 4 بجے مکمل لکھ کر بیٹی کو جگایا اور روتے ہوئے اسے سنایا جسے اس نے بھی روتے ہوئے سنا‘۔

’اس کے بعد ہدایت کار ندیم بیگ کو فون کر کے آخری قسط کا اسکرپٹ سنایا، وہ اس وقت گاڑی چلا رہا تھا اسے گاڑی روکنی پڑی کیونکہ وہ بھی رونے لگا تھا‘۔

آخری قسط میں کیا ہوگا؟

مدیحہ کے بے حد اصرار پر خلیل الرحمٰن قمر نے آخری قسط کے حوالے سے ایک ہنٹ دیا۔ انہوں نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے ایک اور مقبول ترین ڈرامے ’پیارے افضل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈرامے میں جب انہوں نے مرکزی کردار افضل کو ماردیا تھا، تو ایک بار ہوائی جہاز میں سفر کے دوران ایک خاتون نے یہ کہتے ہوئے انہیں تھپڑ جڑ دیا کہ آپ نے افضل کو کیوں مار دیا؟ ’شاید اس بار بھی آپ کو کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملے‘۔

ہر گھر میں مہوش اور دانش ہیں

خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ اس ڈرامے کی مقبولیت کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگوں کی اپنی کہانی ہے، کسی گھر میں مہوش ہے اور کسی گھر میں دانش۔ لوگ اس ڈرامے کو دیکھتے ہوئے اس لیے کرب سے گزرتے ہیں کیونکہ یہ کہیں نہ کہیں ان کی اپنی زندگی میں بھی ہوچکا ہے۔

انہوں نے ڈرامے کو ایک شعر میں سموتے ہوئے کہا،

کون چاہے گا محبت کی تباہی لیکن
تم جو چاہو تو خدا اس کو بھی برباد کرے

گفتگو کو اختتام پر لاتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر سے پوچھا گیا کہ اس کہانی کو فلم کی صورت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ فلم کا دورانیہ 1 سے ڈیڑھ گھنٹے کا ہوتا ہے اور اتنے مختصر وقت میں اتنا کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا، بات کہنے سے رہ جاتی۔

فلم انڈسٹری میں موضوعات کی یکسانیت پر انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ فلم انڈسٹری ان پڑھوں کے ہاتھ میں تھی، آج پڑھے لکھوں کے ہاتھ میں ہے لیکن ان کے ہاں تکبر زیادہ ہے، ’تکبر سے فلم نہیں بن سکتی، جب تک ہمارے اندر سیکھنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوگی اور ہم موضوعات کے لیے مڑ مڑ کر سرحد پار دیکھتے رہیں گے ہماری فلموں کا یہی حال رہے گا‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں