The news is by your side.

Advertisement

‘پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر’ بیماری کیا ہوتی ہے؟

شعبہ طب میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈِس آرڈر(پی ٹی ایس ڈی) کو ایک کیفیتی بیماری کہا جاتا ہے، یہ کیفیت کسی المناک اور خطرناک حادثے کے بعد جسم اور ذہن پر پڑنے والے گہرے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

وہ ملازمین جو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے فائربریگیڈ کا عملہ یا ایمبولنس ڈرائیورز انہیں Post Traumatic Stress Disorder (PTSD) کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کیوں کہ یہ لوگ دل دہلا دینے والے حادثات کے خونی مناظر کے دوران ریسکیو آپریشن جاری رکھتے ہیں جس کے باعث مذکورہ واقعات ان کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود پر پیش آنے والے حادثات بھی (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار کرسکتے ہیں۔

کسی جنگ یا حملے کے دوران زخمی ہونے والے اہلکار یا پھر خوفزدہ حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد طبی امداد کے بعد صحت یاب تو ہوجاتے ہیں لیکن چند لوگوں میں یہ المناک سانحے جسم اور ذہن میں کچھ ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جو مہینوں اور سالوں جاری رہ سکتی ہے۔ اس کیفیت کو ( پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ) کہتے ہیں۔

پی ٹی ایس ڈی کی زیادہ تر وجوہات ٹریفک کے شدید حادثات، خطرناک ذاتی حملے، یر غمال بنا لیا جانا، دہشت گردی کا شکار ہونا، جنگی قیدی بن جانا، قدرتی یا انسان کے پیدا کیے ہوئے آفات وحادثات کا شکار ہونامثلاً سیلاب آنا یا کسی عمارت کا گر جانا، کسی جان لیوا بیماری کی تشخیص بنتی ہیں۔

اس بیماری کا شکار شخص کیا محسوس کرتا ہے؟

اگر کوئی شخص پی ٹی ایس ڈی میں مبتلا ہوچکا ہے تو وہ افسردگی محسوس کرتا ہے، اس پر خوف طاری رہتا ہے، بعض اوقات آپ کو وہ اپنی پریشانی کی وجہ کا الزام بھی عائد کرسکتا ہے۔

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی 3 بنیادی علامات

1: پی ٹی ایس ڈی کی بنیادی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ مریض کو ایسا لگے گا کہ کوئی المناک سانحہ دوبارہ پیش آرہا ہے، وہی حادثہ خواب میں نظر آئے گا، یا پھر خوفناک واقعہ بار بار یاد آئے گا۔

2: مریض کے احساسات و جذبات کا شل ہونا یا اس واقعے کو یاد دلانے والی چیزوں اور باتوں سے گریز کرنا۔

3: متاثرہ شخص کا ہر وقت چوکنا رہنا یا خطرے میں گھرا محسوس کرنا۔

مذکورہ بالا وہ علامات ہیں جس کے نتیجے میں دیگر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں جیسے جسمانی درد کے علاوہ نفسیاتی مسئلہ، دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہو جانا، ڈپریشن، سر میں درد رہنا، کثرت شراب نوشی اور دوائیوں کا بے جا استعمال مثلاً درد کی ادویات سمیت دیگر مسائل کا سامنا مریض کو کرنا پڑسکتا ہے۔

ہر شخص اس مرض کا شکار نہیں ہوتا

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت ناک حادثات کے نتیجے میں ہر کوئی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی کیفیت میں مبتلا نہیں ہوتا، ہاں البتہ تقریباً ایک تہائی افراد اس ذہنی دباؤ کی کیفیت سے نکل نہیں پاتے۔

بچوں میں Post Traumatic Stress Disorder کی شکایت

یہ وہ کیفیت ہے جو ہر عمر کے افراد پر آسکتی ہے، چھوٹے بچوں کو اکثر حادثات کے بعد ان کے بارے میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں جن میں کبھی کبھی بھوت اور اس طرح کی ڈراؤنی چیزیں بھی نظر آتی ہیں، ممکنہ طور پر اس کی وجہ سے کم عمر کے افراد اور بچے اس کیفیت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

پی ٹی ایس ڈی میں افراد کو کیا کرنا چاہیے

ماہرین کہتے ہیں کہ اس بیماری میں شکار ہونے کے بعد مریض کو چاہیے کہ وہ خود کو کمزور نہ سمجھے اور دوسروں کو الزام ٹھہرانے کے بجائے خود میں مضبوطی لائے اور اس بیماری کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرے کیوں یہی اس مسئلے کا حل ہے۔ پیش آنے والے سانحے کو ذہن میں رکھنے کے بجائے دوسروں کو بتائیں۔

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا علاج

ڈاکٹرز عام طور دو طریقے سے اس مرض کا علاج کرتے ہیں، جن میں نفسیاتی طریقہ علاج اور ادویات کے ذریعے علاج شامل ہیں، نفسیاتی طریقہ علاج آپ کو سکھاتا ہے کہ کس طرح اس المناک اور خوفناک سانحے کو لفظوں میں بیان کیا جائے تاکہ وہ یادیں عوم یادوں میں گھل مل جائیں اور اس کیفیت سے نجات ملے۔

ماہرین کچھ مریضوں میں بیماری کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ادویات کے ذریعے علاج کی کوشش کرتے ہیں، اس دوران متاثرہ شہریوں کو سکون کی گولیاں بھی دی جاتی ہیں تاکہ وہ شدید تناؤ کی کیفیت سے باہر آسکے۔

پی ٹی ایس ڈی سے صحت یابی کی نشانیاں

سانحہ جتنا بڑا ہوگا وہ ذہنی اور اعصابی کمزوری کے شکار افراد پر اتنا ہی شدید دباؤ ڈالے گا اور انہیں لوگوں میں پی ٹی ایس ڈی کے وار کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص سانحے کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہوئے بغیر سوچ سکیں اور ہر وقت خطرے میں گھرا محسوس نہ کرے تو یہ پی ٹی ایس ڈی سے صحت یابی کی نشانیاں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں