The news is by your side.

Advertisement

ایشیائی ممالک میں‌ کرونا ویکسین کب پہنچے گی؟‌عالمی ادارہ صحت نے بتادیا

نیویارک : ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایشیائی ممالک میں کرونا ویکسین آئندہ برس کے وسط یا اختتام تک پہنچنے کی امید ظاہر کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کو دنیا بھر میں تباہی پھیلاتے ہوئے پورا سال گزر گیا لیکن مریضوں تک کرونا ویکسین نہ پہنچ سکی اور لاکھوں افراد اس مہلک وبا کا شکار ہوگئے۔

امریکا اور برطانیہ میں کرونا ویکسی نیشن کا آغاز تو ہوا لیکن عالمی ادارہ صحت نے ایشیائی میں کرونا ویکسین 2021 کے وسط یا اختتام تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے بیان کی روشنی میں ایشیائی ممالک کو کرونا وائرس سے نمٹنے کےلیے ویکسین کا انتظار کرنے کے بجائے طویل المدتی منصوبے پر انحصار کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار عالمی ادارہ صحت کا ایشیائی ڈائریکٹر ڈاکٹر تاکشی کسائی نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک ویکسین بنانے والے ممالک اور کمپنیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں اسی لیے وہ جلدی ویکسین لینے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن باقی ممالک کو 2021 کے وسط یا اختتام تک ہی ویکسین میسر آسکے گی۔

عالمی اداروں کے سربراہوں نے اگرچہ ان ممالک کے نام نہیں بتائے، جن ممالک کو ویکسین حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم عہدیداروں کے مطابق مغربی بحرالکاحل کے ممالک میں آئندہ سال کے اختتام تک ویکسین پہنچنے کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ممالک میں صرف چین اور آسٹریلیا ایسے ممالک ہیں جو اپنی ویکسین تیار کررہے ہیں لیکن باقی ممالک دوسرے ملکوں یا کمپنیوں سے ویکسین لینے کے منتظر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بحرین اور متحدہ عرب امارارت میں چینی ویکسین کے استعمال کی اجازت ہوگئی ہے لیکن چین نے خود چین میں اپنی ویکسین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، دوسری جانب سنگاپور، سعودی عرب اور کویت امریکی کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کی ویکسین استعمال کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں