The news is by your side.

Advertisement

تین دہائیوں قبل گمشدہ سعودی فوجی کی باقیات، کیپٹن عبداللہ القرنی کون تھے؟

ریاض: آپریشن صحرائی طوفان کے دوران عراقی فورسز کے ہاتھوں گرفتار اور قتل ہونے والے سعودی فوجی عبداللہ القرنی کی باقیات اہل خانہ کو مل گئیں۔

تفصیلات کے مطابق تقریباً تین دہائیوں قبل عراقی فوج کے کویتی دارالحکومت پر قبضے کے بعد سعودی عرب کے مشرقی ریجن اور ریاض میں شروع ہونے والے آپریشن صحرائی طوفان کا کیپٹن عبداللہ القرنی بھی حصہ تھے، اس دوران انہیں عراقی فورسز نے گرفتار کیا اور عراق کی جیل میں ہی موت کے گھات بھی اتار دیا تھا۔

سعودی فوجی کی باقیات مملکت واپس لا کر اہل خانہ کے حوالے کی گئیں بعد ازاں ان کی موجودگی میں ہی تدفین بھی کردی گئی۔ کیپٹن عبداللہ کی شہادت کا باعث بننے والے واقعات کا آغاز دو اگست 1990 سے ہوا تھا جب عراقی فورسز نے اچانک حملے کے باعث چند گھنٹوں میں کویت سٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔

یہ قبضہ تقریباً 7 ماہ تک برقرار رہا بعد ازاں امریکا، عرب ممالک اور دیگر 40 سے زائد ملکوں نے ملک کر آپریشن صحرائی طوفان کا آغاز کیا تاکہ عراقی قبضہ ختم کرکے انہیں پیچھے دھکیلا جائے۔

اس آپریشن میں 17 جنوری 1991 تک 6 لاکھ سے زائد اتحادی فوج کے زمینی، بحری اور فضائی دستے جمع ہوئے، اس جنگ میں 35 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، عراقی فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

کیپٹن عبداللہ القرنی کی گرفتاری کی معلومات نہیں مل سکیں ایک طرح سے وہ لاپتہ رہے بعد ازاں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ وہ عراق کی ایک جیل میں تھے اور بظاہر ایک دہائی بعد ان کی وفات ہوگئی مگر اس کی تفصیلات کہیں موجود نہیں، سعودی حکومت نے باقیات واپس لانے کی بھرپور کوششیں کیں۔

بالآخر عراقی حکام نے اب جاکر سعودی فوجی کی باقیات سعودی عرب کے حوالے کی اور پھر تدفین ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں