The news is by your side.

Advertisement

امریکا کا آئندہ صدر کون ہوگا؟ وزیراعظم کی پیشگوئی

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نازی ازم سے متاثر فسطائی ملک بن چکا ہے اور اپنے پڑوسی ممالک چین، بنگلادیش، سری لنکا اور پاکستان کےلیے خطرہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے جرمن جریدے دیر اسپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، عمران خان نے کہا کہ امریکا سے بھارت کے تناظر میں مساوی رویہ دیکھنا چاہتے ہیں اور کشمیر پر امریکا سے دونوں کے ساتھ یکساں پالیسی کی توقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خطے میں کشیدگی ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے اور نیا صدر جو بھی ہو امریکا کو پاکستان اور بھارت کے ساتھ یکساں رویہ رکھنا چاہیے۔

ایک سوال امریکا کا آئندہ صدر کون ہوگا جوبائیڈن یا ٹرمپ؟ کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جوبائیڈن امریکی رائے عامہ میں خاصے مقبول نظر آرہے ہیں لیکن ٹرمپ بھی روایتی سیاست دان نہیں وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے، خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے اور بھارت اپنے ہمسایہ ممالک چین ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ،پاکستان کےلئے خطرہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برصغیر میں مودی جیسی شدت پسند، نسل پرست حکومت پہلے کبھی نہیں رہی لیکن بھارت میں اس وقت نازی ازم سے متاثر فسطائی حکومت ہے، بھارتی وزیراعظم کی پارٹی کا نظریہ آر ایس ایس کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جنتا پارٹی میں کھلے عام ہٹلر کو سراہا جاتا ہے اور نازی یہودیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے، بی جی پی بھارت میں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں افغان مہاجرین کا عنصر مددگار رہا لیکن اب افغانستان کا اونٹ کس کورٹ بیٹھے گا پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بعد کوئی ملک وہاں امن چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے، گلبدین حکمتیار نے افغان الیکشن میں حصہ لیاوہ اپنے ملک کا آئین تسلیم کرتا ہے، میں نے حکمتیار سے ملاقات سے پہلے عبداللہ عبداللہ سے بات چیت کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کسے اقتدار ملے پاکستان کا کوئی فیوریٹ نہیں، کابل حکومت بھارت کو وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمی کی اجازت نہ دے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں افغان مہاجرین کا عنصر مددگار رہا لیکن اب افغانستان کا اونٹ کس کورٹ بیٹھے گا پیشگوئی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بعد کوئی ملک وہاں امن چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے، گلبدین حکمتیار نے افغان الیکشن میں حصہ لیاوہ اپنے ملک کا آئین تسلیم کرتا ہے، میں نے حکمتیار سے ملاقات سے پہلے عبداللہ عبداللہ سے بات چیت کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کسے اقتدار ملے پاکستان کا کوئی فیوریٹ نہیں، کابل حکومت بھارت کو وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمی کی اجازت نہ دے۔

دوسری جانب چین نے 40 سال میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، اب دیکھ لیں چین میں جمہوریت نہیں لیکن میرٹ کا سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے۔

کوئی بھی ملک وسائل کی کمی نہیں کرپشن سے بدحال ہوتا ہے اور ہم اصلاحات کے مشکل اور تکلیف دہ عمل سے گزر رہے ہیں، پاکستان کو لوٹنے والے اصلاحات کے ثمرات سے خوفزدہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں