The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

طلبہ کے لیے ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، طلبہ کپڑے کا ماسک بھی بنا کر پہن سکتے ہیں: ڈاکٹر فیصل

اسلام آباد: حکومت نے 15 ستمبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ 13 مارچ کو اسکول کی بندش کا فیصلہ مشکل تھا، کرونا کے دوران بچوں کے امتحانات لینا بھی مشکل تھا، اسکول کھولنے سے متعلق مختلف فورمز پر مسلسل تحقیق کی گئی ہے، تعلیمی نقصان کو چند ماہ میں پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج اسلام آباد میں ڈاکٹر فیصل کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا، وفاقی وزیر نے کہا آج حالات کا جائزہ لے کر تمام فیصلے کیے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اس سلسلے میں مختلف فورمز پر بہت زیادہ تحقیق کی۔

شفقت محمود نے کہا کہ 15 ستمبر سے یونی ورسٹیاں اور کالجز کھولے جائیں گے، 15 دن تک حالات ٹھیک رہے تو تمام انسٹی ٹیوشنز کو کھول دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے بتدریج کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 15 ستمبر سے یونی ورسٹیاں اور کالجز کھولے جائیں گے، ہائر ایجوکیشن کے انسٹی ٹیوشنز کھلیں گے، نویں، دسویں، گیارہویں، بارہویں کلاسوں کی بھی اجازت ہوگی۔ 7 دن دیکھیں گے پھر دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جائزے کے بعد 23 ستمبر کو چھٹی، ساتویں، 8 ویں جماعت کو اجازت دی جائے گی، ایک ہفتہ مزید حالات کا جائزہ لیا جائے گا، جائزے کے بعد 30 ستمبر کو پرائمری اسکولز بھی کھولنے کا فیصلہ ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا آئندہ امتحانات کے شیڈول کا جائزہ لیا جا رہا ہے، شیڈول میں تبدیلی اور دیگر معاملات پر بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا مدارس اور ووکیشنل ادارے بھی 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے، اس سلسلے میں کیے جانے والے فیصلوں کا اطلاق مدارس، سرکاری و نجی اسکولز اور دیگر ایجوکیشنل سسٹمز پر ہوگا۔

15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق اصولی فیصلہ ہوگیا

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا تمام انسٹی ٹیوشنز کو ایس او پیز کے ساتھ کھولا جائے گا، تعلیمی اداروں میں ہر 2 ہفتے بعد کرونا ٹیسٹ ہوں گے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ احتیاطی تدابیر کی تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہے، کرونا وبا سے متعلق صورت حال تسلی بخش نظر آ رہی ہیں، تاہم وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک کلاس روم میں 40 میں سے 20 طلبہ کو بلایا جائے، 20 بچوں کی ایک دن کلاس رکھی جائے اور 20 بچوں کی اگلے دن۔

انھوں نے کہا طلبہ کے لیے ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، طلبہ کپڑے کا ماسک بھی بنا کر پہن سکتے ہیں، اگر کسی بچے کو کھانسی یا بخار ہے تو اسے اسکول نہ بھیجا جائے، تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ علامات والے طلبہ کا ٹیمپریچر چیک کیا جانے چاہیے، سماجی فاصلے پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا، تعلیمی اداروں میں داخل ہوتے وقت طلبہ کی اسکریننگ کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں