The news is by your side.

Advertisement

ہینلے کی بیماری اور نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظم

جب اس کی عمر 14 برس ہوئی تو معالجوں نے بتایا کہ اسے ہڈیوں کی ٹی بی ہے اور زندگی بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ کرب و ملال کی اس کیفیت میں اس نے ایک نظم کہی جو آج برسوں بعد بھی زندہ ہے۔

یہ تذکرہ ہے، انگریز شاعر ولیم ارنسٹ ہینلے (William Ernest Henley) اور ان کی مشہورِ زمانہ نظم Invictus کا! لیکن اس نظم کا ایک اور حوالہ بھی ہے۔

اپنی کرب ناک بیماری سے لڑتے ہوئے مایوسی میں گھرے ہینلے نے خود کو حوصلہ دینے کے لیے یہ اشعار کہے تھے اور افریقا کے ایک سپوت نے، جو انسانیت کے جسم میں زہر کی طرح سرائیت کرنے والے “نسلی تعصب” کے خلاف لڑرہا تھا، اسی نظم کو اپنی جدوجہد کا ترانہ بنا لیا۔

یہ باہمت نیلسن منڈیلا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دورِ اسیری میں وہ یہ نظم اپنے جیل کے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں لندن کے ایک اوپیرا گروپ نے ان کی آواز میں یہ نظم ریکارڈ کرکے اس کی باقاعدہ دُھن تیار کی اور منڈیلا کی زندگی پر بننے والی ہالی ووڈ کی ایک فلم کا نام بھی اسی نظم کے عنوان پر رکھا گیا۔

اس عظیم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس نظم کا آزاد اور تاثراتی ترجمہ پیش خدمت ہے۔ منڈیلا کی یہ پسندیدہ نظم ان کی جدوجہد سے بھرپور زندگی کی تصویر کشی کرتی ہے اور ساتھ ہی ان کی یادوں سے جڑی ایک یاد ہے، ملاحظہ فرمائیں!

ناقابلِ شکست
اس رات سے پرے، جو مجھے گھیرے ہوئے ہے
اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک، کسی کھائی کے مانند سیاہ ہے
میں خداوندانِ دہر کا شکر گزار ہوں، ان سب عطاؤں کے لیے
جو میری ناقابلِ تسخیر روح پر کی گئیں
جب بھی مجھے حالات نے اپنی گرفت میں جکڑا
نہ تو میں گھبرایا اور نہ بَین کیا
مقدر کی پیہم ضربوں تلے
میرا سَر خون آلود ہے مگر جُھکا نہیں
اس جائے قہر و ملال سے بھی سِوا
خوف کے دھندلے سائے
اور زِیاں کاری کی نذر ہوتے برسوں نے مجھے
بے خوف پایا اور آئندہ بھی ایسا ہی پائیں گے
اب اس کی کیا پروا کہ راستے کتنے دشوار ہیں
یا راہیں کتنی پُر پیچ ہیں
میں اپنی قسمت کا خود مختار ہوں
میں اپنی کشتیِ روح کا آپ ملاح ہوں

(تحریر و ترجمہ رانا محمد آصف)

Comments

یہ بھی پڑھیں