The news is by your side.

Advertisement

وہ گاؤں جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں

لاہور :  ساہیوال کا ایک گاؤں ایسا بھی ہے، جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں اور گذشتہ 15 سال سے خواتین اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کر رہیں۔

تفصیلات کے مطابق ساہیوال کے حلقہ این اے 147 اور پی پی 198 کا علاقہ جہان خان ہے، جہاں خواتین کو گذشتہ 3 الیکشن پیریڈ سے ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔

بتایا گیا ہے گذشتہ 15 سال قبل 2 گروپوں میں قتل و غارت کے بعد علاقے کے بزرگوں نے خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ صادر کیا تھا جس پر خواتین اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتی۔

میڈیا میں خبر کے بعد ڈپٹی کمشنر نے علاقے کا دورہ کیا اور علاقے میں ووٹ کی اہمیت اور خواتین کے ووٹ ڈالنے کو یقینی بنانے کیلئے لوگوں ایجوکیٹ کیا۔

سال 2013 کے جنرل الیکشن میں خواتین کے لیے علیحدہ پولنگ بوتھ بھی بنایا گیا تھا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے عملہ بھی بھیجا گیا لیکن خواتین نے ووٹ کاسٹ نہیں کیے تھے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ تمام حلقوں میں دس فیصد خواتین کے ووٹ لازمی ہوں گے، جس حلقہ میں خواتین ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہوئی، اس کے نتائج کالعدم قرار دیئےجائیں گے اور خواتین کو زبردستی روکنےکی شکایت پرکارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے ملک بھر میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے، کل دس کروڑ پچپن لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔

قومی اورصوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کےلیےآزادامیدواروں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کےگیارہ ہزارسےزائد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے،پولنگ صبح آٹھ بجےسےبلا تعطل شام 6بجے تک جاری رہے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں