The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: فٹبال ورلڈکپ کے دوران 1352 افراد پر روس کا سفر کرنے پر پابندی عائد

لندن : برطانوی حکومت کی جانب سے انتشار  پھیلانے والے افراد پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد 1254 شہریوں نے اپنے پاسپورٹ پولیس کو جمع کروادیئے ہیں جبکہ 58 افراد کی تلاش جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت نے کھیلوں کے دوران انتشار پھیلانے والے 1312 شہریوں پر فٹبال ورلڈ کے دیکھنے کے لیے روس جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ 1312 افراد میں سے 1254 شہریوں نے اپنے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات روس میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل ہی پولیس کو جمع کروا دیئے ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے باقی 58 افراد کی تلاش جاری ہے جنہوں نے ابھی تک اپنے پاسپورٹ اور دستاویزات جمع نہیں کروائے ہیں۔

وزارت پولیس کا کہنا تھا کہ ’سیکیورٹی اداروں کی جانب سے انتشار پھیلانے والے افراد کے خلاف اس لیے کارروائی کی گئی ہے تاکہ وہ فٹبال ٹورنامنٹ کے اصلی مداحوں کی تفریح خراب نہ کریں‘۔

حکومتی عہدیداران کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ ورلڈ کپ 2018 کے دوران 10 ہزار برطانوی شہری روس کا سفر اختیار کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس مارچ میں انگلینڈ اور نیدرلینڈ کے درمیان کھیلے گئے فٹبال میچ کے دوران انتشار پھیلانے کے جرم میں 100 افراد کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد برطانیہ نے روس کو یقین دہانی کروائی تھی کہ صرف اصلی مداحوں کو ہی ورلڈ کپ کے دوران روس بھیجا جائے گا۔

خیال رہے کہ سنہ 2016 میں یورپ کپ کے میں انگلینڈ اور روس کے درمیان کھیلے فٹبال میچ کے دوران روسی اور برطانوی ٹیموں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پُرامن ماحول کو خراب کرنے والے افراد کے خلاف پانبدی کے احکامات جاری ہونے کے بعد پولیس نے برطانیہ کے ایئر پورٹ پر نفری تعنیات کردی ہے تاکہ جن افراد پر پابندی عائد کی گئی انہیں جانے سے روکا جاسکے۔

فٹبال ورلڈ کپ کے دوران برطانیہ کا وفد جس میں پولیس افسران بھی شامل ہوں گے روس کا سفر کرے گا تاکہ ٹورنامنٹ کے دوران سیکیورٹی کی انجام دہی میں مدد فراہم کرسکیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں