ہیمو فیلیا: خون روکنے کی صلاحیت ناکارہ کرنے والا مرض -
The news is by your side.

Advertisement

ہیمو فیلیا: خون روکنے کی صلاحیت ناکارہ کرنے والا مرض

آج دنیا بھر میں ہیمو فیلیا سے بچاؤ اور آگہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس مرض کا شکار افراد میں خون رکنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور معمولی سا زخم لگنے کی صورت میں بھی بے تحاشہ خون بہنے لگتا ہے۔

ہیمو فیلیا ایک موروثی مرض ہے جو جینیاتی خرابی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اس مرض میں جسم میں خون کے جمنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ ہیمو فیلیا کے مریض کے جسم کے کسی بھی حصے پر معمولی نوعیت کا زخم بھی لگ جائے تو اس سے کافی دیر تک خون بہتا رہتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے جب کسی اندرونی چوٹ کے باعث جسم کے اندر خون بہنے لگے، اس وقت اسے روکنا ناممکن ہوتا ہے۔

خون کا اندرونی بہاؤ بغیر کسی چوٹ کے عام حالات میں بھی پیش آسکتا ہے اور بغیر کسی وجہ کے ہیمو فیلیا کے مریضوں کے جسم کے اندر خون بہنے لگتا ہے۔

مزید پڑھیں: انگور خون کی کمی دور کرنے میں معاون

ایک عام مشاہدہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی معمولی چوٹ لگتی ہے تو ہو اس سے رسنے والا خون تھوڑی دیر بعد رک جاتا ہے۔ لیکن اگر خون کا بہاؤ جاری رہے تو یہ ہیمو فیلیا کی علامت ہے۔

یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مستقل طور پر خون کے بہاؤ سے موت کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مرض زیادہ تر مردوں کو لاحق ہوتا ہے تاہم خواتین بھی اس کا شکار ہیں۔

علاج کیا ہے؟

اس مرض کا اب تک کوئی جامع علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ماہرین نے تجرباتی طور ایک مادہ ہیمو فیلیا کے مریضوں کے جسم میں داخل کیا، جس سے ان کے خون جمنے کی صلاحیت تو بڑھ گئی، تاہم ان کو دوسری طبی پیچیدگیاں بشمول جگر کی سوزش لاحق ہوگئی۔

ماہرین کے مطابق ہیمو فیلیا کے مریض احتیاطی تدابیر اپنا کر مرض کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق مریضوں کو دانتوں کی صفائی اور شیو کرتے ہوئے خود کو زخم لگنے سے بچانا چاہیئے۔

گھر کے کاموں اور گھر سے باہر عام انسانوں کے مقابلے میں چلنے پھرنے، دوڑنے، سڑک پار کرنے اور نوکیلی یا تیز دھار اشیا کے استعمال کے دوران بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں