The news is by your side.

Advertisement

دنیا نے آج پھر بھارتی فسطائیت کا چہرہ دیکھ لیا: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ کا یو این سیکریٹری جنرل کو فون، سیکریٹری جنرل کا مقبوضہ وادی کی صورت حال پر اظہار تشویش

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بگڑتی جا رہی ہے، دنیا نے آج بھارتی فسطائیت کا چہرہ دیکھا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود اسلام آباد میں پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بگڑتی جا رہی ہے، بھارت کا جمہوری چہرہ آج سری نگر ایئر پورٹ پر بے نقاب ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت دعویٰ کرتا تھا ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں، لیکن دنیا نے آج بھارت کا فاشسٹ چہرہ دیکھا، دنیا نے آج دیکھا سری نگر ایئر پورٹ پر راہول گاندھی کے ساتھ کیا ہوا۔

یو این سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر کا خود دورہ کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی

ان کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی اپنے دیگر 11 ساتھیوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے گئے، لیکن انھیں گرفتار کر لیا گیا، بعد ازاں جہاز کے ذریعے دہلی منتقل کیا گیا، یہ ہے اصل بھارت کا چہرہ جو دنیا اب دیکھ رہی ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اطلاعات تک رسائی کسی کی بھی نہیں، کشمیری عوام سے ان کے حقوق چھین لیے گئے، مقبوضہ وادی سے کوئی خبر باہر نہیں آنے دی جاتی۔

انھوں نے کہا کہ میری ابھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے فون پر بات ہوئی ہے، انھوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھیں بتایا کہ مقبوضہ وادی میں کھانے کی قلت ہو گئی ہے، بھارت پلوامہ جیسا ناٹک رچانے کی تیاری کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اقوام متحدہ کو کشمیری جانوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لا حق ہیں، یو این سیکریٹری جنرل کو اپنے تمام خدشات سے آگاہ کر چکے ہیں، کل مقبوضہ وادی میں پر امن مظاہرین پر پیلٹ گنز اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی، کشمیریوں کو نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرنے دی گئی، مسجدوں کو تالہ لگا ہوا ہے، مسلسل 20 روز سے کرفیو جاری ہے۔

تازہ ترین خبریں پڑھیں:  راہول گاندھی اور اپوزیشن رہنماوں کو مقبوضہ وادی جانے سے روک دیا گیا

شاہ محمود نے کہا کہ بھارت کا جب اپنے لوگوں سے ایسا سلوک ہے تو کیا توقع کریں، بھارتی حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تو ہمارے ساتھ کیا بیٹھیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر مزید 2 اجلاس طلب کر رکھے ہیں۔

وزیر خارجہ

انھوں نے کہا کہ میں نے یو این سیکریٹری جنرل کو کہا سلامتی کونسل کی قراردادیں مطالبہ کرتی ہیں کہ کشمیریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، سلامتی کونسل کو معلوم ہونا چاہیے حالات کس طرف جا رہے ہیں۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ یو این سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر کا خود دورہ کرنا چاہیے، سیکریٹری جنرل نے کہا کہ میں فرانس میں ہوں اور مودی سے ملاقات کروں گا، مقبوضہ کشمیر میں تشویش ناک صورت حال پر نظر ہے، اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یو این سیکریٹری جنرل کو پی فائیو ممبران کو صورت حال سے آگاہ کرتے رہنا چاہیے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو بغاوت پر مجبور کر رہا ہے، پاکستان نے شملہ معاہدے کی پاس داری کی، بھارت نے شملہ معاہدے پر ضرب لگائی، یک طرفہ اقدام سے بھارت اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے دوبارہ سعودی عرب، یو اے ای کے ولی عہد سے بات کی خواہش کا اظہار کیا، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر مزید 2 اجلاس طلب کر رکھے ہیں، ایک اجلاس وزارت خارجہ، دوسرا کشمیر کمیٹی کے ساتھ ہوگا، اجلاسوں میں وزارت خارجہ، کشمیر کمیٹی اپنی تجاویز پیش کریں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں