The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد میں ٹی بی کی تشخیص

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تپ دق یا ٹیوبر کلوسس (ٹی بی) سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پاکستان میں ہر سال 4 لاکھ سے زائد افراد میں ٹی بی کی تشخیص ہوتی ہے۔

ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 4 لاکھ 10 ہزار افراد ٹی بی کا شکار ہو جاتے ہیں، صرف 2 سے 3 سال میں یہ تعداد دگنی ہوچکی ہے جو سنہ 2017 میں 2 لاکھ تھی۔

ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے اور خواتین سمیت پاکستان میں ہر سال ٹی بی کے باعث 69 ہزار ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایک تہائی ٹی بی کے مریضوں میں مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، یا وہ علاج کی سہولیات سے محروم ہیں۔

سنہ 2018 میں دنیا کی 23 فیصد آبادی یعنی 1 ارب 70 کروڑ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، یہ مرض ہر سال 15 لاکھ افراد کی جان لے لیتا ہے۔

بھارت اس مرض کا شکار دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، دنیا بھر میں ٹی بی کے 87 فیصد کیسز بھارت میں تشخیص ہوتے ہیں۔

ٹی بی کیسے لاحق ہوسکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غربت، غذائی کمی، گندے گھروں میں رہنا اور صفائی کا انتظام نہ ہونا ٹی بی سمیت بہت سی بیماریوں کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔

اسی طرح پہلے سے مختلف امراض جیسے ایڈز یا ذیابیطس کا شکار ہونا، اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی اور شراب نوشی کا استعمال بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

ٹی بی کی علامات

اگر آپ اپنے یا کسی اور کے اندر یہ علامات دیکھیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یہ علامات ممکنہ طور پر ٹی بی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

دو ہفتے سے زیادہ کھانسی یا بخار

بہت زیادہ تھکاوٹ

رات کو پسینہ آنا

بھوک اور وزن کی کمی

کھانسی میں خون آنا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات پر فوری توجہ دے کر ابتدائی مرحلے میں مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں