The news is by your side.

Advertisement

وبائی دور میں جان ہتھیلی پر رکھ کر علم کی شمع جلانے والے سپاہیوں کا دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج اساتذہ کا عالمی دن منایا جارہا ہے، رواں برس اس دن کو ان اساتذہ کے نام کیا گیا ہے جنہوں نے اس مشکل وبائی دور میں لیڈرز کا کردار ادا کیا۔

اساتذہ کا عالمی دن ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، اس کی ابتدا سنہ 1994 سے ہوئی۔ یونیسکو، یونیسف اور تعلیم سے منسلک دیگر اداروں کی جانب سے اس دن جہاں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے وہاں ان مسائل کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جو انہیں درپیش ہیں۔

استاد ایک اچھے تعلیمی نظام کا بنیادی عنصر، اس کی روح ہیں اور جب تک اساتذہ کو معاشرے میں عزت نفس نہیں ملتی، وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں، وہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔

رواں برس اس دن کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے مشکل وقت کے دوران اساتذہ کے عزم و حوصلے کے نام کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وبائی دور میں جہاں پوری دنیا تھم گئی، وہیں اساتذہ نے بے شمار مشکلات کے باوجود بھی اپنا مشن جاری رکھا اور نئے ذہنوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کرتے رہے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر تعلیم کا شعبہ سنگین مسائل سے دو چار ہے اور موجودہ وبائی دور میں اس کی خرابیاں مزید اجاگر ہوئیں۔

قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت نے ملک میں تعلیمی اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا جس کے سبب اساتذہ قلیل تنخواہ میں بنا کسی مناسب تربیت کے پڑھانے پر اور طالب علم بغیر سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

موجودہ حالات میں آن لائن تعلیم والدین اور اساتذہ دونوں کے لیے وبال بن گئی، ملک کے دور دراز پسماندہ شہروں اور قصبوں میں تو جدید ٹیکنالوجی سرے سے موجود ہی نہیں، تاہم بڑے شہروں میں بھی اساتذہ مشکلات کا شکار رہے کیونکہ قلیل تنخواہ اور مناسب تربیت کی عدم موجودگی کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی سے روشناس نہ ہونے پائے۔

ایسے حالات میں بھی اساتذہ نے ہمت نہ ہاری اور جیسے تیسے محدود وسائل میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے رہے۔

تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد کرونا وائرس کے خطرے کے باجود اساتذہ جانوں پر کھیل کر نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف ہیں اور پوری جانفشانی سے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں