The news is by your side.

اگرصدام اورقذافی زندہ ہوتے تو دنیا بہترجگہ ہوتی، امریکی صدارتی امیدوار

واشنگٹن: امریکہ کے ریپبلکن پارٹی کی جانب سے نامزد صدارتی امیدوار ڈانلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر صدام حسین اورمعمر قذافی آج بھی اقتدار میں ہوتے تو دنیا ایک بہترجگہ ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی این این کے ایک ٹاک شو میں کیا جہاں ارب پتی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اوبامہ اورسابق سیکرٹری اسٹیٹ ہیلری کلنٹن کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ منقسم ہوکررہ گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدام حسین اورمعمر قذافی نے اپنے ہی لوگوں پر مظالم روا رکھنے کی ہر حد کو عبورکیا اور اب یہ دونوں افراد اس دنیا میں نہیں ہیں۔؎

صدام حسین کو عراق پرامریکی حملے کے بعد 2006 میں سزائے موت دی گئی جبکہ قذافی کو2011 میں اقتدار سے برطرف کرکے بھپرے ہوئے مجمع نے قتل کردیا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج لیبیا اورعراق تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، لیبیا، عراق اور شام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان سب کی ذمہ دار صدر اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کی پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے عراق کو ’’دہشت گردوں کی ہارورڈ‘‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ عراق دہشت گردوں کی تربیت گاہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صدام کوئی اچھا شخص تھا وہ ایک بدترین شخص تھا لیکن اس کے دورمیں عراق کی صورتحال آج سے قطعی بہترہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خارجہ پالیسی امریکی افواج کو مسلسل مصروف رکھنے کی راہ پر گامزن ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کی دنیا قرونِ وسطیٰ کے عہد کی دنیا بن چکی ہے یعنی یہ ایک ناقابلِ یقین، خطرناک اورخوفناک دنیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں