The news is by your side.

سابق عراقی صدر صدام حسین کا مقبرہ تباہ، جسد خاکی غائب

بغداد: عراقی شہر تکریت میں فضائی بمباری کے نتیجے میں صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہوگیا جبکہ ان کا جسد خاکی قبر سے غائب ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق عراقی صدر صدام حسین کا مقبرہ فضائی بمباری سے تباہ ہوگیا ہے جبکہ ان کی لاش بھی قبر سے غائب ہے، 28 اپریل کو صدام حسین کی تاریخ پیدائش کے دن ان کی قبر پر زائرین کی بڑی تعداد حاضری دیتی ہے۔

قبیلے کے سربراہ شیخ مناف نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے وقت وہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے تاہم بمباری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ مقبرہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور قبر کھلی ہوئی تھی جس میں سے لاش غائب ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ’ہالا‘ ایک نجی طیارے میں تکریت آئی تھیں اور وہ اپنے والد کی باقیات کو اپنے ساتھ اردن لے گئی تھیں، تاہم سابق عراقی صدر کے قبیلے کے افراد نے اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام حسین کی موت کے بعد سے اب تک ان کی بیٹی کبھی عراق واپس نہیں آئی ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ صدام حسین کی باقیات کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہو لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کس نے یہ کام کیا ہے اور لاش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کو 30 دسمبر 2006 میں پھانسی دی گئی تھی، ان کے جسد خاکی کو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے حکم پر عراقی شہر تکریت بھیجا گیا تھا، بعدازاں صدام حسین کے آبائی علاقے العوجا میں تدفین کرکے اس پر مقبرہ بنادیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں