The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں ٹوئن ٹاورز کی تباہی کو 13سال مکمل

امریکا میں ٹوئن ٹاورز کی تباہی کو تیرہ سال مکمل ہوگئے ہیں، واقعے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر امریکہ کے شہر نیویارک میں قائم ایک بلند عمارت تھی،  جسے جاپانی نژاد امریکی ماہر تعمیرات منورو یاماساکی نے ڈیزائن اور اتھارٹی آف نیویارک اینڈ نیو جرسی نے تعمیر کیا۔ اس عمارت کو ٹوئن ٹاورز بھی کہا جاتا ہے۔

اس عمارت کی تعمیر کا آغاز مین ہٹن کے علاقے میں 1966ء میں کیا گیا، 110 منزلہ جڑواں عمارتیں 1972ء میں اپنی تکمیل سے 1973ء تک دنیا کی بلند ترین عمارات رہییں، 11 ستمبر 2001ء کو ایک حملے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر 8.6 ملین مربع فٹ پر پھیلا ہوا تھا اور اس کے دونوں ٹاورز 110 منزلوں کے حامل تھے۔

گیارہ ستمبر 2001ء کی صبح 8بجکر 46 منٹ پر امریکن ایئر لائنز کی فلائٹ 11 شمالی ٹاور میں جا ٹکرائی، جس کے 20 منٹ بعد 9 بجکر 3 منٹ پر یونائیٹڈ ایئر لائنز کی فلائٹ 175 اس کے جنوبی ٹاور سے جا ٹکرائی، جو 9 بجکر 59 منٹ پر زمین بوس ہوگیا جبکہ 10 بجکر 28 منٹ پر شمالی ٹاور بھی زمین بوس ہوگیا۔

اس حملے کے دوران ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ملحقہ عمارات کو بھی زبردست نقصان پہنچا، اس زبردست حملے کے نتیجے میں ارد گرد کا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، جسے صاف کرنے میں ساڑھے 8 ماہ لگے جبکہ دھواں اور دھول مٹی 99 دنوں تک مین ہٹن پر چھائی رہی۔

اس حملے میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار 749 افراد ہلاک ہوئے، امریکی حکومت نے اس کی جگہ پر ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نام سے نئی عمارت بنانے کا اعلان کیا جو کہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اور  2014 کے اختتام تک  مکمل ہوگی۔

زخمی ہونے والے افراد آج بھی اس حادثے کو یاد کرتے ہوئے اشکبار ہوجاتے ہیں، حادثے کے مقام پر قائم گراؤنڈ زیرو اور وہاں بنایا جانے والا میوزیم ہر سال امریکیوں کو اس سانحے کی یاد دلاتا رہے گا۔

نائین الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا، دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں میں پچاس ہزار شہری اور تین ہزار کے قریب پاک فوج کے جوان اور افسران شہید ہوگئے جبکہ کھربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں