The news is by your side.

Advertisement

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا اسکالر شپس میں جنوبی پنجاب سے امتیازی سلوک

تحریر: راؤ محمد خالد 
email: [email protected]

 

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ اگر کسی مخصوص لسانی اکائی ، کمیونٹی ، طبقہ یا جغرافیہ کے لوگوں کے ساتھ عدم مساوات کا مسلسل عمل کیا جاتا ہے تو اس عدم مساوات کے مسلسل عمل سے اس طبقہ آبادی میں احساس محرومی اور غصہ جنم لیتا ہے اور اگر عدم مساوات کا عمل مستقل کیا جائے تو اس کا نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے پاکستان میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا ۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جرمنی اور فرانس سے ملنے والی 8 کروڑ کی 400 اسکالر شپس میں جنوبی پنجاب کی یونیورسٹیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے ۔جرمنی کے سفیر Cyrill Nunn اور HEC کے قائم مقام چیئر پرسن امتیاز حسین گیلانی کے مابین میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق جرمنی اور فرانس کی جانب سے HEC کو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں فروغ تعلیم کے لیے طلبہ کو 8کروڑ مالیت کے 400 اسکالر شپس دیئے گئے لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان تمام اسکالر شپس کے لیے جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ کی یونیورسٹیوں کا انتخاب نہیں کیا ۔ جرمنی کی جانب سے دیئے جانے والی 4 کروڑ مالیت کے 200 اسکالرشپس کے لیے جن 10 یونیورسٹیوں کا انتخاب کیا ہے ان میں 4 کا تعلق قائم مقام چیئرمین ایج ای سی امتیاز حسین گیلانی کے صوبہ سے ہے ۔ ان یونیورسٹیوں میں یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور ، کوہاٹ یورنیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، یونیورسٹی آف ہری پور اور فرنٹیر ی وومن یونیورسٹی پشاور شامل ہیں اور 2 وفاقی یونیورسٹیز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور COMSAT یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد اور اپر پنجاب کی 2 یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور بلوچستان کی لسبیلہ یونیورسٹی اور سردار بہادر خان یونیورسٹی شامل ہیں۔ اس سے قبل فرانس سے ملنے والی 4 کروڑ کی 200 سکالر شپس میں بھی جنوبی پنجاب کی جامعات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فرانس سے ملنے والی سکالر شپس میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد ، COMSAT یونیورسٹی آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنٹ کراچی اور قراقرم یونیورسٹی گلگت شامل ہے ۔ 
جرمنی سے ملنے والی سکالر شپس میں جنوبی پنجاب ، کراچی اور سندھ کو نظر انداز کیا گیا جبکہ فرانس سے ملنے والی سکالرشپ میں بھی جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کو نظر انداز کیا گیا جبکہ کراچی سے صرف IBA کو شامل کیا گیا ۔ 
وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت انجینئر بلیغ الرحمن کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے لیکن اس کے باوجود جنوبی پنجاب کی یونیورسٹی کا انتخاب نہیں کیا گیا ۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ شہروں ملتان ،بہاولپور ، وہاڑی، ڈی جی خان وغیرہ کو سرے سے نظر انداز کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کو اسکالر شپس میں نظر انداز کرنا اس پسماندہ خطہ کے عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟؟؟
ہزاروں سال پہلے ایک یونانی دانشور نے کہا تھا کہ بہترین معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں ظلم سے محفوظ رہنے والے لوگ بھی ظلم کے خاتمے اور ظالم کو سزا دلوانے کے لیے اتنی ہی دلچسپی اور سر گرمی کا مظاہرہ کریں جتنا ظلم رسیدہ خاندان افراد یا گروہ اس ظالم کے خلاف سر گرم عمل ہو ۔ ایک پاکستانی چاہے پہاڑ کی آغوش میں رہتا ہو یا صحرا کی گود میں رہتا ہو یا میدانوں کے سینے پر رہتا ہو لب سمندر رہتا ہو اگر ہر شخص کو برابر کا پاکستانی اور مساوی حقوق کا حقدار تسلیم نہیں کیا جاتا تو پاکستانیت کیسے فروغ پا سکتی ہے ؟؟؟ میری محب وطن دانشورں، صحافیوں، کالم نگاروں ، اینکر پرسنز ، سیاسی و سماجی رہنماؤں ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، پاکستان کے ارباب اختیار سمیت عالمی برادری سے پُر زور اپیل ہے کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ ناروا امتیازی سلو کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ پسماندہ خطہ کے 4 کروڑ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں