The news is by your side.

Advertisement

گوگل میں ملازمت کی جعلی فون کال سے بھارتی نوجوان اسپتال پہنچ گیا

نئی دہلی: بھارتی شہر چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والا 16 سالہ نوجوان اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گیا جب اسے پتہ چلا کہ وہ فون کال جس میں اسے گوگل کی جانب سے سالانہ دیڑھ کروڑ روپے مشاہرے پر ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی، وہ جعلی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل کچھ بھارتی ویب سائٹس نے دعوٰی کیا تھا کہ چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ ہرشیت شرما کو گوگل میں ملازمت پر رکھ لیا گیا ہے۔

بھارتی اخبارات نے رپورٹ کیا کہ ہرشیت نے انہیں بتایا کہ وہ کافی عرصے سے مختلف ملازمتوں کے لیے اپلائی کر رہا تھا۔

چند روز قبل ہرشیت نے گوگل میں بھی قسمت آزمائی کی جہاں سے اسے فوری جواب آیا اور گوگل نے گرافک ڈیزائننگ کے شعبے میں اسے سالانہ دیڑھ کروڑ بھارتی روپے ( 2 کروڑ 37 لاکھ پاکستانی روپے) کی تنخواہ پر ملازمت دے دی۔

گوگل کی تردید

ابھی بھارتی ہرشیت کو نوجوانوں کے لیے عمدہ مثال قرار دے کر اس خوشی کا جشن منا رہے تھے کہ گوگل نے اس کی تردید کر کے ان کی خوشی خاک میں ملا دی۔

گوگل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں واقع گوگل کے اداروں میں فی الحال کہیں پر بھی مذکورہ 16 سال بھارتی نوجوان کو ملازمت نہیں دی گئی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

جعلی فون کال

گوگل کی تردید کے بعد چند بھارتی اخبارات نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہرشیت کو گوگل کی جانب سے موصول ہونے والی فون کال دراصل جعلی تھی۔

اس بات کا علم ہوتے ہی ہرشیت کو نہایت صدمہ پہنچا اور وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

ہرشیت کے والدین کا کہنا ہے کہ ہمیں شروع سے ہی اندازہ تھا کہ یہ کال جعلی ہوسکتی ہے تاہم ہرشیت نے ہماری بات پر یقین نہیں کیا اور اسے سچ سمجھتے ہوئے اپنے دوستوں سے اس کا ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: سموسے بیچنے کے لیے گوگل کی ملازمت چھوڑنے والا نوجوان

ان کے مطابق وہاں سے بات پھیل گئی اور میڈیا تک جا پہنچی جس کے بعد صرف ایک دن کے اندر ہرشیت پورے بھارت کا موضوع بن گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہرشیت ابھی اپنے تعلیمی مراحل پورے کر رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ہرشیت کسی بھی قسم کے دباؤ کا شکار ہو۔

ہرشیت کے والدین نے بھارتی میڈیا کو بھی اپنے بیٹے کو پہنچنے والے دکھ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اخبارات اور چینلز کو پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیئے تھی اس کے بعد اسے رپورٹ کرنا چاہیئے تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں