site
stats
خواتین

سائیکل پراسلام آباد سے خنجراب تک کا سفر طے کرنے والی قوم کی باہمت بیٹی

اسلام آباد: پہلی پاکستانی خاتون سائیکلسٹ نے وفاقی دارلحکومت سے خنجراب تک کا کٹھن سفر طے کر کے  پہلی پاکستانی خاتون سائیکلسٹ ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

دنیا بھر میں 8 مارچ کو یومِ خواتین منایا جاتا ہے جس کا مقصد مختلف ممالک میں بسنے والی باہمت خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہوتا ہے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایسی باہمت خواتین ہیں جنہوں نے اپنے مشکل ماضی کو شکست دے کر نئی زندگی شروع کی اور کامیابیاں سمیٹیں۔

پاکستان کی پہلی خاتون سائیکلسٹ ثمر خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے لوئر دیر سے ہے، سوشل میڈیا پر اپنے ماضی کو بیان کرتے ہوئے اُن کا کہنا ہے کہ ’’انہوں نے پسند کی منگنی کی مگر شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے مسلسل اذیت کی گئی جس کے باعث جینے کی خواہش ختم ہوگئی‘‘۔

cylist-1

اُن کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ جب مجھے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا، والدین کو جب تمام حالات کا علم ہوا تو وہ مجھے اپنے ہمراہ گھر لے آئے اور منگنی ختم کردی۔

ثمر کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں انہوں نے روزگار جاری رکھتے ہوئے انٹرنیٹ پر بچوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا مگر شوہر نے علیحدگی کے بعد ہی طلبہ کے والدین کو میرے بارے میں غلط باتیں کہیں اور کہا کہ میرا تعلق طالبان اور دہشت گردوں سے ہے۔ان تمام حالات کے پیش نظر دنیا کے تمام لوگوں سے میرا اعتبار ختم ہوگیا تھا اورکسی پر بھروسہ نہیں رہا تھا۔


پڑھیں: ’’ پاکستان کا سر فخر سے بلند کرنے والی خواتین کرکٹرز ‘‘


سائیکلسٹ کے مطابق پیرگلائیڈنگ کے تجربے کی بنیاد پر پاکستان آرمی کی طرف سے ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی تو والدین کو راضی کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اپنے تحفظات کیا اور کہا کہ ’’تمھاری زندگی خطرےمیں ہیں‘‘، تاہم انہوں نے میری ضد کے آگے ہتھیار ڈالے اور پیرگلائیڈنگ کورس میں شامل ہوگئی۔
cylist-2

ثمر کا کہنا ہے کہ کورس کے دوران میری مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی اور اس دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملا، اسی اثناء مجھے ایک لڑکی نے سائیکلنگ کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس کے فوائد بھی بتائے، جو میرے لیے نیا تجربہ تھا تاہم میں نے فوری طور پر رضامندی ظاہر کی اور سائیکلنگ شروع کی۔


مزید پڑھیں: ’’ پاکستانی خواتین کے لیے پہلی بار ٹیکسی سروس متعارف ‘‘


انہوں نے کہا کہ پیرگلائیڈنگ کورس مکمل ہونے کے بعد ہم نے سوچا کہ اسلام آباد سے خنجراب تک کا سفر سائیکل پر طے کر کے نئی تاریخ رقم کی جائے، اس اقدام کو عملی جامع پہناتے ہوئے ہم نے سفر کیا، اس دوران مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی اور علم ہوا کہ دنیا بہت حسین ہے اور ساتھ میں مجھے اپنی حیثیت کا بھی اچھی طرح سے اندازہ ہوا، مزے کی بات یہ ہے کہ میں اُس سفر کے بعد اپنے ماضی کو مکمل بھول گئی‘‘۔

ثمر کا کہنا ہے کہ لوئر دیر سے تعلق کے بارے میں جب معلوم ہوتا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ سب ممکن کیسے ہوا؟  میں انہیں جواب دیتی ہوں کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آنا اپنی جگہ مگر جذبہ، ہمت اور لگاؤ انسان کے حالات کو بدل دیتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top