The news is by your side.

Advertisement

نامور شاعر ساحر لدھیانوی کی 38 ویں برسی

اپنی شاعری سے سحر طاری کردینے والے نامور شاعر ساحرلدھیانوی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 38 برس بیت گئے۔

رومان اور انقلاب کے حسین امتزاج کے شاعر ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921ء کو بھارتی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے، ان کا حقیقی نام عبدالحئی تھا لیکن وہ ساحر کے نام سے مشہور ہوئے، انہوں نے بیک وقت ہندی اور اردو میں شاعری کی اور فلمی گیت لکھے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا اور اسی دور سے شاعری شروع کردی، کالج میں ان کے ساتھ امریتا پریتم بھی تھیں اور ان ہی کے عشق کی پاداش میں ساحر کو کالج سے نکال دیا گیا۔

ساحر لدھیانوی کو اصل شہرت اس وقت ملی جب ان کے گیت بالی ووڈ انڈسٹری میں شامل ہوئے اور متعدد لیجنڈ اداکاروں پر فلمائے گئے، انہوں نے معاشرتی ناہمواریوں پر بھی قلم اٹھایا اور اس موضوع کا حق ادا کردیا۔

انہوں نے اپنی فنی زندگی میں دو بار فلم فیئر ایوارڈ جیتے جس میں پہلا 1964 میں فلم ’تاج محل‘ کے گیت جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا اور دوسرا کبھی کبھی کی شاعری پر1977 میں اپنے نام کیا۔

ساحرلدھیانوی کے معروف گیتوں میں ’’ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘‘، ’’ میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘‘، ’’ گاتا جائے بنجارا‘‘، ’’گیت گاتا چل‘‘ شامل ہیں۔

38 برس گزر جانے کے باوجود ان کے نغمے آج بھی عوام میں مقبول ہیں، اس البیلے شاعر کا انتقال 25 اکتوبر1980 کو ممبئی میں ہوا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں