امریکا میں عمارت زمین میں دھنسنے لگی -
The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں عمارت زمین میں دھنسنے لگی

واشنگٹن: آپ نے اٹلی کے پیسا مینار کے بارے میں ضرور پڑھا ہوگا جو بنانے والوں کی غلطی سے ذرا سا ترچھا بن گیا اور سیاحوں کی توجہ کا باعث بن گیا۔ یہ ٹاور دن بدن مزید جھک رہا ہے اور انتظامیہ نے سیاحوں کے اس کی چھت پر چڑھنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ایسی ہی ایک اور عمارت اب امریکی ریاست سان فرانسسکو میں بھی سامنے آئی ہے جہاں موجود 58 منزلہ میلینیئم ٹاور زمین میں دھنس اور جھک رہا ہے۔

sf-2

یہ صورتحال عمارت کے اندر رہنے والوں کے لیے خاصی خوفناک اور پریشان کن ہے۔ سان فرانسسکو کے سب سے مہنگے علاقے میں واقع اس بلڈنگ میں لوگوں نے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو اب داؤ پر لگ گئی ہے۔

کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو اپنی جمع پونجی سے یہاں پرتعیش فلیٹس خرید کر رہ رہے ہیں اور اگر حکومت نے الرٹ جاری کرتے ہوئے عمارت کو خالی کرنے کا نوٹس دے دیا تو یہ افراد شاید بے گھر ہوجائیں۔

آسٹریلیا اپنی ’جگہ‘ بدل چکا ہے *

سنہ 2009 میں کھولی جانے والی یہ عمارت اپنی تعمیر کے اگلے ہی سال سے ریت میں دھنسنا شروع ہوچکی تھی۔ عمارت ان 7 سالوں میں 16 انچ زمین میں دھنس چکی ہے جبکہ توازن میں فرق آنے کے باعث 2 انچ زمین کی جانب جھک بھی چکی ہے۔

یہ عمارت دراصل سان فرانسسکو کے ساحلی علاقہ میں بنائی گئی ہے اور اس جگہ کی زیر زمین مٹی نم اور ریت جیسی ہے۔ پانی کی لہریں آنے کے باعث یہ ریت گیلی ہو کر پھیل جاتی ہے جس کے بعد عمارت اندر دھنس جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عمارتوں کی تعمیر میں ان کی بنیاد ’بیڈ راک‘ میں ڈالی جاتی ہے یعنی زمین کے نیچے پتھروں اور سخت مٹی کی وہ سطح جو عمارت کی بنیاد کو پکڑ کر رکھتی ہے۔ لیکن ساحلی علاقہ ہونے کے باعث اس مقام پر یہ مٹی دستیاب نہیں تھی اور یہاں موجود ریت اب اس عظیم الشان عمارت کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگلے کچھ عرصہ میں یہ عمارت مزید 30 انچ زمین میں دھنس جائے گی جس سے عمارت کے پورے ڈھانچے کے متاثر ہونے اور اس کی تباہی کا اندیشہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں