پانامہ لیکس پر تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کا پانچواں اجلاس ختم -
The news is by your side.

Advertisement

پانامہ لیکس پر تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کا پانچواں اجلاس ختم

اسلام آباد:پانامہ پیپرز پر وزیر اعظم کے اہل خانہ کے نام آنے پرتحقیقات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا پانچواں اجلاس ختم ہو گیا ہے،جس میں حکومتی ٹیم نے چار نکاتی ’’ٹی او آرز‘‘ پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پانامہ پیپرز پر وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سمیت سینکڑوں پاکستانیوں کے نام آنے پر تحقیقات کے لیے بنائی پارلیمانی کمیٹی کا پانچواں اجلاس آج آسلام آباد میں منعقد ہوا،جس کے اختتام پر حکومتی ٹیم اور اپوزیشن کی ٹیم نے اپنے اپنے موقف سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

پارلیمانی کمیٹی کے اپوزیشن ٹیم کے رکن شاہ محمود قریشی کا موقف

shah-mehmood

پارلیمانی کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے اختتام پر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن ٹیم کے رکن شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے چار نکاتی ’’ٹی او آرز‘‘ وصول ہوئے ہیں، جس پر آئینی اور قانونی مشاورت کے بعد اپنا موقف اگلی نشست میں حکومتی ٹیم کو دیں گے،اگلی نشست منگل کو شام 4 بجے ہوگی۔

انہوں نے میڈیا کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں صورت حال جوں کی توں موجود ہے،ڈیڈ لاک ختم ہونے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اپوزیشن رہنما شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ اپوزیشن نے پہلے اجلاس میں ہی اپنے ’’ٹی او آرز‘‘ حکومتی ٹیم کو دے دیے تھے،جس پر مشاورت کے لیے وقت حکومت نے مانگا تھا جس کے بعد آج حکومت نے ردعمل کے طور پر چار نکاتی ’’ٹی او آرز‘‘ دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومتی “ٹی او آرز” پر قانونی مشاورت کے بعد ردعمل دیں گے،ہماری کوشش ہے کہ مزاکرات کے ذریعے سے متفقہ ’’ٹی او آرز‘‘ پر پہنچ جائیں۔

ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ ’’ٹی او آرز‘‘ پر اتفاق کے بعد تحقیقات کے لیے قانون بنانے پر کام کریں گے،جس کے بعد قانون کی روشنی میں پانالیکس پر کمیشن بنایا جائے گا۔

 

پارلیمانی کمیٹی کے پانچویں اجلاس پر حکومت کا موقف

Saad-rafique

پارلیمانی کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے بعد پارلیمانی کمیٹی میں حکومتی ٹیم کے رکن خواجہ سعد رفیق نے میڈیا کے سامنے حکومتی اعلامیہ پیش کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی ٹیم نے اپوزیشن کے ’’ٹی اوآرز‘‘ کا جائزہ لیا،جس میں قانونی سقم پائے گئے،جس کی نشاندہی کی،اور چار نکاتی حکومتی ٹی او آرز پیش کیے۔

اس موقع پر انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ہمارا پہلے بھی موقف تھا کہ اتفاق رائے سے آگے بڑھیں گے،اور اب متفقہ ٹی او آرز کے لیے ہر کاوش بروئے کار لائیں گے۔

حکومتی رکن پارلیمانی کمیٹی نے مزید بتایا کہ ضابطہ کار کیلیے اپوزیشن کی طرف سے ایک دستاویز پیش کی گئی تھی،جس کے رد عمل میں حکومت نے اپوزیشن کے ٹی او آر کے پس منظر میں نئے ٹی او آر دیے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے میڈیا کو بتایا کہ نئے ’’ٹی او آرز‘‘میں متعلقہ قوانین پر مبنی دستاویزات بھی منسلک کر کے اپوزیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں،ان قوانین میں انکم ٹیکس ،ویلتھ ٹیکس ،فارن ایکسچینج اور الیکشن سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

حکومتی ٹیم کے رکن خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے چار رکنی ’’ٹی او آرز‘‘ پر آپس میں اور اپنی قیادت سے مشاورت کیلیے وقت مانگا ہے،جس کے بعد آیندہ اجلاس میں تبادلہ خیال ہوگا۔

خواجہ سعد رفیق نے آخر میں نے اس تاثر کی نفی کہ پارلیمانی کمیٹی میں کوئی ڈیڈ لاک ہے،حکومتی اعلامیہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا چھٹا اجلاس منگل کی شام چار بجے قومی اسمبلی کی کمیٹی روم نمبر 4 میں ہو گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں