site
stats
شاعری

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی
خواب در خواب محلات کے در وا ہیں کئی
اور مکیں کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت
کوئی امید، کوئی آس مسافر صورت
کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں
کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دور ہو تم
ہر گھڑی سایہ گر خاطر رنجور ہو تم
اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

***********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top