The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر کا حلف اٹھالیا

اسلام آباد: مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ نے وفاقی وزیر کا حلف اٹھالیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تقریب حلف براداری ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد کی گئی، تقریب حلف برداری میں عسکری، سیاسی حکام نے شرکت کی، صدر مملکت عارف علوی نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے حلف لیا۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ معاشی پالیسی سازی میں 30برس سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہے پھر 1990 کے عشرے میں سعودی عرب میں عالمی بینک کے ڈائریکٹر اکنامک آپریشنز کے فرائض انجام دیئے۔

حفیظ شیخ نے 21ممالک میں ماہر معاشیات کے طور پر خدمات سر انجام دیں، بعدازاں 2000سے 2002کے دوران سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے پھر 2003سے 2006 کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری کے طور پر فرائض انجام دیئے۔

انہوں نے پیپلز پار ٹی کے دور میں 2010سے 2013کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں، حفیظ شیخ 2012میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئے اور سینیٹ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

حفیظ شیخ کی بطور وفاقی وزیر تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے، آٹھ دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی کے خلاف کیس اور نجکاری کمیشن کے خلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس غلام اعظم قمبرانی نے تئیس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تقرری کے خلاف درخواست مسترد کردی جبکہ نجکاری کمیٹی کے خلاف درخواست منظور کی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کابینہ کا حصہ ہیں نہ ہی کارروائی میں شامل ہوسکتے ہیں، وزیراعظم کا معاونین خصوصی کا تقررآئین وقانون کی خلاف ورزی نہیں، مگر معاونین خصوصی وفاقی وزیر ہیں نہ ہی وزیرمملکت، معاونین خصوصی صرف مراعات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ کسی مشیر یا معاون خصوصی کو وفاقی وزیر نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی کابینہ اجلاس میں شرکت کرسکتا ہے، کسی کمیٹی کو چئیر نہیں کرسکتا، پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کرسکتا، عدالت نے وفاقی حکومت کی 6 رکنی نجکاری کمیٹی کا نوٹیفکیشن کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مشیر اور معاونینِ خصوصی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیرِاعظم عمران خان نے تین مشیروں کو وفاقی وزیر بنانے پر قانونی ٹیم سے مشاورت کی، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وزیراعظم آرٹیکل91کےتحت کسی غیرمنتخب شخص کووفاقی وزیرمقرر کرسکتےہیں بعد ازاں وزیرِ اعظم عمران خان آئینی حق استعمال کیا، جس کے تحت وزیراعظم غیر منتخب شخص کو چھ ماہ کے لیے وفاقی وزیر بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ دور حکومت میں شاہدخاقان عباسی نے بطور وزیراعظم  نمفتاح اسماعیل کووفاقی وزیرمقررکیاتھا

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کو مارچ میں شیڈول سینیٹ انتخابات میں سینیٹ کا ٹکٹ بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں