The news is by your side.

Advertisement

بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 117 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

طرابلس : بحیرہ روم میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 117 مہاجرین کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا کے سمندر نے درجنوں افراد کی جان لے لی، بہتر مستقبل کیلئے یورپ جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے باعث متعدد لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے لیکن ان کی ہلاکت خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کشتی پر 120 افراد سوار تھے جبکہ ان میں سے 10 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی خواتین اور بچوں میں ایک خاتون حاملہ تھی اور ایک بچے کی عمر صرف 2 ماہ تھی، حادثے میں زندہ بچ جانے والے تین افراد کا کہنا ہے کہ کشتی 11 گھنٹے تک سمندر میں ہچکولے کھاتی رہی اور پھر الٹ گئی۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مراکشی اور ہسپانوی حکام کی جانب سے مغربی بحیرہ روم میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش جاری ہے، ذرائع کے مطابق ڈوبنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق مغربی افریقا سے ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں یورپ جانے کی خواہش میں 2200 افراد بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد لیبیا کے شہر صبراتہ سے یورپ جارہے تھے، لیبیا میں ایسے متعدد گروپ ہیں ہو مہاجرین کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچاتے ہیں۔

مزید پڑھیں : لیبیا: غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش ناکام، کشتی ڈوبنے سے 15 مہاجرین ہلاک

یاد رہے کہ خیال رہے کہ گذشتہ سال بحیرہ روم کےذریعے  یورپ جانے کی کوشش میں مہاجرین کے ڈوب جانے کے باعث 15 تارکین ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 10 افراد کو ریسکیو عملے نے بچا لیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں